تہران(اے بی این نیوز ) ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب صورتحال میں سختی کے باعث متعدد بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خبرایجنسی کے مطابق تین بحری جہازوں کو واپس بھیجا گیا جبکہ دو چینی بحری جہاز بھی نامعلوم وجوہات کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے عبور نہ کر سکے۔
رپورٹس کے مطابق چینی بحری جہازوں کو محفوظ راستے کی ضمانت دی گئی تھی، تاہم وہ آبنائے ہرمز عبور کیے بغیر واپس لوٹ گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک کمپنی کی جانب سے 25 مارچ سے کارگو بکنگ کا عمل بھی شروع کیا گیا تھا، جس کے باوجود بحری ٹریفک میں رکاوٹ کی صورتحال پیدا ہوئی۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اپنے فوجیوں کو خطے کے اڈوں پر مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق بعض امریکی اہلکار سیکیورٹی خدشات کے باعث ہوٹلوں اور پارکوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب امریکا اپنی موجودگی والے خطے میں اپنے اہلکاروں کی حفاظت یقینی نہیں بنا سکتا تو وہ کسی اور مقام پر اپنی ذمہ داریاں کیسے نبھا سکتا ہے۔
ادھر ایران کی جانب سے یہ بھی مؤقف سامنے آیا ہے کہ اہم آبی گزرگاہ کو بعض ممالک کے لیے محدود رکھا جا سکتا ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں :ایران کے ترجمان کی ویڈیو منظر عام پرآگئی، امریکہ کو ٹرول کر دیا،دیکھئے















