اسلام آباد (اے بی این نیوز )اسلام آباد میں وزارت تجارت نے ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے برآمدات سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے مالیاتی ضوابط میں عارضی نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔
دستاویز کے مطابق حکومت نے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے تحت مالیاتی تقاضوں سے استثنیٰ دیتے ہوئے تین ماہ کے لیے خصوصی اجازت دی ہے، جس کا اطلاق 24 مارچ 2026 سے 21 جون 2026 تک ہوگا۔
اس فیصلے کے تحت ایران کے زمینی راستے کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں اور آذربائیجان کو چاول برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ ایران کے لیے بھی متعدد اشیاء کی برآمد ممکن ہوگی۔ دستاویز میں شامل اشیاء میں چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی، کینو، کیلا، ٹماٹر، فروزن چکن، ادویات اور خیمے شامل ہیں۔
وزارت تجارت کے مطابق برآمد کنندگان کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر برآمدی زرِمبادلہ ملک میں واپس لائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد علاقائی تجارت کو فروغ دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے، خاص طور پر ایران کے زمینی راستے کے ذریعے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانا۔
وزارت تجارت لے مطابق بینک گارنٹی و لیٹر آف کریڈٹ کی چھوٹ 24 مارچ تا 21 جون 2026 تک مؤثر ہوگی،جاری نوٹیفکیشن کے تحت چھوٹ کے تحت پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان کو چاول کی برآمدات کرسکے گا۔
برآمد کنندگان کو یہ شرط پوری کرنی ہوگی کہ برآمدات کے منافع مقررہ مدت میں واپس آئیں،پاکستان نے فنانشل انسٹرمینٹ کی پابندیاں ایکسپورٹ پالیسی آرڈر میں نافذ کی گئی تھیں۔افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے کے بعد پاکستان کی وسطی ایشیا کی برآمدات ایران کے زرائع ہو رہی ہیں
مزید پڑھیں :سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری















