اہم خبریں

ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے،صدرٹرمپ علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے وقت بڑھارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جنگ جاری ہے،یہ دشمن کی ایک اور شکست ہے، صدر ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر ناکام ہوگئے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سےایران کے ساتھ ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے اس لیے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے موخر کر دیئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ ’ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر، بلکہ ایران میں تمام حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔‘

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘

اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اس تفصیلی اور تعمیری بات چیت کے انداز اور لہجے کی بنیاد پر جو اس ہفتے بھر جاری رہیں گی، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر تمام فوجی حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے، جو جاری ملاقاتوں اور مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے۔‘

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے موخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے ۔

امریکی کروڈ آئل کی قیمت میں 10فیصد کمی دیکھنے میں آئی جو کہ 88.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے جبکہ برطانوی کروڈ آئل میں بھی 10 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد فی بیرل قیمت 101.49 ڈالر پر آ گئی ہے ۔
مزیدپڑھیں:وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، ایرانی عوام سے اظہار یکجہتی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار

متعلقہ خبریں