واشنگٹن (اے بی این نیوز )امریکی فوجی حکام نے ایران میں فوجی تعیناتی کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کر لی ہے، تاہم اس منصوبے پر عملدرآمد کا فیصلہ امریکی صدر طے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی حکمت عملی میں ایران کے جوہری مواد کے ذخائر تک رسائی اور انہیں تحویل میں لینے کے آپشنز شامل ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کے نیوکلئیر مواد کو محفوظ بنانے یا وہاں سے باہر نکالنے کے طریقوں پر غور کیا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق، امریکی فوج کی یہ ممکنہ کارروائی ابتدائی طور پر یورینیم کے کچھ سلنڈرز تک محدود ہو سکتی ہے۔ جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ کے ایلیٹ یونٹس اس حساس مشن کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ایران کے خلاف فوجی مہم کے غیر یقینی مرحلے میں ممکنہ کارروائی کی جا سکے۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے جزوی تصدیق کے علاوہ ابھی کوئی حتمی بیان نہیں دیا گیا۔
صدر نے بیان دیا کہ ایران کی حکومت کے خلاف مشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کے اہم مقاصد پورے کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی افواج نے پچھلے تین ہفتوں کے دوران ایران کی روایتی فوجی صلاحیت، فضائی دفاع، میزائل سسٹمز اور پاسداران انقلاب سے منسلک کلیدی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ تاہم ایران نے خلیجی خطے میں امریکی و اسرائیلی اتحادیوں پر محدود جوابی حملے کیے اور ہرمز کے تنگ راستے سے خام تیل کی ترسیل روک کر اپنی موجودگی کا پیغام بھی دیا۔
مزید پڑھیں :عید کے دن خبر غم آگئی، جا نئے کتنا جا نی نقصان ہوا















