اسلام آباد (اے بی این نیوز )تحریک انصاف کے رہنماعون عباس پبینے کہا ہے کہ ملکی معیشت، عوامی مسائل اور عدالتی شفافیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عام شہریوں کے لیے شدید بوجھ بن چکا ہے اور اس کے اثرات غریب عوام کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کو بے تحاشہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ عوام کے ٹیکس سے خریدی جانے والی یہ سہولیات عام شہریوں کے بجائے اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے لیے مختص کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں میں شفافیت لانی چاہیے اور عوام کی مشکلات کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ موجودہ فیصلے عام عوام کی بھلائی کے بجائے مخصوص سیاسی اور مالی مفادات کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ مرکز اور صوبے میں فیصلے سیاسی مفادات کے مطابق کیے جا رہے ہیں اور بعض پالیسیز کا اثر دفاع اور اطلاعات پر بھی پڑ رہا ہے۔ پنجاب میں مسائل اٹھانے والے شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں گولی مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ عوامی احتجاج کو دہشتگردی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ صرف عوام کے حقوق کی آواز ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی سرگرمیاں محدود کی جا رہی ہیں اور لوگ سڑکوں پر جا کر اپنے مسائل بیان نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیسز کی اپیلیں طویل انتظار کا شکار ہیں اور انصاف متاثر ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ اور دیگر ادارے کیسز کو مؤثر طریقے سے فالو نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے نظام کی خامیاں افراد کو غیر محفوظ اور غیر یقینی صورتحال میں چھوڑ رہی ہیں۔ انہوں نے بانی تحریک انصاف کی صحت اور میڈیکل بورڈ کے مسائل کو بھی شفافیت کی کمی کا نتیجہ قرار دیا۔
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ کئی افراد گزشتہ چھ ماہ سے تنہائی کی قید میں ہیں اور حکومت اس بارے میں خاموش ہے۔ بہنوں کے احتجاج اور ایکشن کو محدود کیا جا رہا ہے اور ملاقاتیں نہیں کرائی جا رہی ہیں، جس سے عوامی آواز دبائی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن حکومت مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی نظام میں بروقت کارروائی اور شفافیت ضروری ہے تاکہ انصاف یقینی بنایا جا سکے اور عوامی اعتماد قائم رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے موجودہ صورتحال میں اصلاحات اور شفافیت نہ لائی تو سیاسی و سماجی بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال، پاکستان کی سیکیورٹی تیاریوں اور معاشی حکمت عملی پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کی سرحد کی سلامتی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر ایران میں ممکنہ عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات خطے پر پڑ سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان سے گوادر تک پھیلی پاکستان اور ایران کی سرحد ایک حساس علاقہ ہے جس کے تحفظ کے لیے مضبوط اور مربوط سیکیورٹی انتظامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں سرحدی علاقوں میں دراندازی کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں، اسی لیے وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ پاکستان اور ایران کی سرحد پر سیکیورٹی تیاری مکمل اور مؤثر ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی وسیع جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے، اسی لیے پاکستان سفارتی سطح پر سرگرم ہے تاکہ جنگ کا دائرہ مزید نہ پھیلے اور خطے میں امن برقرار رہے۔
انہوں نے توانائی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے تعاون سے مغربی ساحل کے ذریعے تیل کی ترسیل کا ایک متبادل نظام فعال ہو چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس نظام کو مزید تیز اور مؤثر بنانے کے لیے سعودی تعاون سے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔خرم دستگیر خان نے کہا کہ حکومت معاشی اور توانائی کے معاملات پر متبادل حکمت عملی پر بھی کام کر رہی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری بروقت اور مؤثر طریقے سے ادا کرنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وسائل کے درست استعمال اور شفافیت کو حکومت کی اولین ترجیح بنایا گیا ہے اور آڈٹ و نگرانی کے مؤثر نظام کے ذریعے ہر منصوبے کی مکمل جانچ یقینی بنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے میڈیکل بورڈز کے قیام سے قبل اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کیں اور تمام اقدامات پہلے ہی مکمل کیے جا چکے تھے۔خرم دستگیر خان نے اس بات پر زور دیا کہ غلط رپورٹس اور غیر ضروری تنازعات سے گریز کیا جانا چاہیے اور ہر معاملہ شفاف اور درست عمل کے ذریعے نمٹایا جائے گا تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔














