اسلام آباد (اے بی این نیوز )تحریک انصاف کے رہنما نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران بانی تحریک انصاف کو مناسب طبی سہولت فراہم نہ کرنے کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی ہے اور یہ معاملہ نہایت سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ جیل حکام کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس تمام کارروائی پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بانی تحریک انصاف کو ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے ان کے خاندان کو آگاہ نہیں کیا گیا حالانکہ جیل رول 795 کے مطابق کسی بھی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کی صورت میں اس کے اہل خانہ کو اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کے اہل خانہ باقاعدگی سے ملاقات کے لیے جیل آتے ہیں، اس کے باوجود علاج کے عمل کو خفیہ رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم ہونے کے باوجود بانی تحریک انصاف کو وہ طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں جو قانون کے مطابق ملنی چاہئیں۔ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو اپنے دور میں علاج اور خاندان سے رابطے کی مکمل سہولت حاصل تھی، اس لیے بانی تحریک انصاف کو بھی سابق وزیراعظم ہونے کے ناطے وہی قانونی حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کا مؤقف اور تمام کارروائی قابل قبول نہیں اور تحریک انصاف اسے مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے جس میں بانی تحریک انصاف کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر کے خاندان کی نگرانی میں علاج کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عدالت کے سامنے یہ مؤقف رکھا گیا ہے کہ بانی تحریک انصاف کی صحت اور طبی معائنے کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔اے بی این نیوز کے پروگرام ’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ فرینڈ آف کورٹ کی سفارشات پر بھی حکومت نے عمل نہیں کیا جس سے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی تحریک انصاف کے قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی اور اس سلسلے میں مزید قانونی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے بتایا کہ عید کے بعد سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ تحریک کے حوالے سے پارٹی کے اندر مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ کسی خفیہ مذاکرات کی خبریں درست نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف جو بھی بات کرتی ہے کھل کر کرتی ہے اور بند کمروں میں مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی مفاد کے خلاف کسی قسم کی ڈیل یا سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ہر معاملے میں پاکستان کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔
مزید پڑھیں :عید کی آمد،مارکیٹ میں نئے اور جعلی نوٹوں کا غیر قانونی دھندا عروج پر،کو ئی پرسان حال نہیں















