اسلام آباد (اے بی این نیوز )اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے جاری کفایت شعاری مہم پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں کیونکہ ایک طرف اخراجات کم کرنے کی بات کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف پارلیمنٹ لاجز کی تزئین و آرائش کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے کا منصوبہ سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت متعدد پارلیمنٹیرینز کے سوئٹس کی مرمت اور دیکھ بھال پر بھاری رقم خرچ کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق متعلقہ ادارے کی جانب سے پارلیمنٹ لاجز کی مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے باقاعدہ ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے جبکہ 36 پارلیمنٹیرینز کے سوئٹس کی مرمت کے لیے ٹھیکیداروں سے بولیاں طلب کی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم ارکان قومی اسمبلی کے سوئٹس کی مرمت کے لیے بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 14 اپریل مقرر کی گئی ہے۔
دوسری جانب کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات کم کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق عید کے موقع پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تقریباً 30 فیصد تک کٹوتی کر دی گئی ہے جس کے باعث ملازمین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
مزید برآں وزارت خزانہ کی جانب سے سرکاری اکاؤنٹس سے تنخواہوں کے علاوہ دیگر کئی سرکاری بلوں کی ادائیگی بھی تاحکم ثانی روکنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اس صورتحال میں ایک طرف کفایت شعاری مہم جاری ہے جبکہ دوسری جانب پارلیمنٹ لاجز کی مرمت کے لیے بڑے اخراجات کی خبریں سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔اے جی پی آر نے سرکاری ملازمین اور وینڈرز کے چیک کی کلیئرنس روک دیا،
مزید پڑھیں :موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا معاملہ، ہائیکورٹ سے بڑ احکم آگیا،جا نئے کیا















