اہم خبریں

حکومت کی ہچکچاہٹ سے سیا سی ڈیڈ لاک برقرار ہے، فواد چودھری

اسلام آباد (اے بی این نیوز    )سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ اہم قومی معاملات پر حکومت نے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا، جس کے باعث قومی اتفاقِ رائے کی کمی کے سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ملکی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے شفاف حکمتِ عملی اور کھلا مکالمہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے سیاسی شخصیات کے ساتھ مختلف رویوں پر حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولیات دینے کے معاملے پر بھی حکومتی رویہ زیر بحث ہے اور اس طرزِ عمل سے معاشرے میں تقسیم بڑھ رہی ہے۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور خارجہ امور پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

سرحد پار دہشت گردی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ناقابلِ برداشت ہے اور گزشتہ تین برسوں میں بارہ سو سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق مشترکہ آپریشن سے انکار اور دہشت گردوں کی حوالگی نہ ہونے پر پاکستان کا ردعمل سخت ہونا فطری ہے، اور جب تک سرحد پار محفوظ ٹھکانے ختم نہیں ہوتے آپریشن جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی شہادتیں قبول نہیں کی جا سکتیں اور شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

فواد چودھری نے کہا کہ سفارتی رابطے برقرار رکھنا ضروری ہے مگر سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی ڈیڈ لاک کا حل صرف مذاکرات میں ہے، انقلاب سے نظام درہم برہم ہوگا جبکہ استحکام بات چیت سے آئے گا۔ ان کے مطابق سیاسی بحران کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہے اور حکومت کی ہچکچاہٹ سے ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ اے بی این نیوز کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئے

انہوں نے زور دیا کہ ملکی استحکام کے لیے فوری سیاسی ڈائیلاگ ناگزیر ہے اور بڑے اصلاحات قومی حکومت کے بغیر ممکن نہیں۔ نئے صوبوں اور مقامی حکومتوں کی اصلاحات کو موجودہ حالات میں مشکل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اداروں کی ساکھ بحال کیے بغیر سیاسی استحکام ممکن نہیں، اور اداروں کو بااختیار بنائے بغیر کوئی بڑا فیصلہ کامیاب نہیں ہوگا۔ قومی ایجنڈا طے کرنے کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں