واشنگٹن (اے بی این نیوز )امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مذاکرات سے قبل ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں 30 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر عائد کی گئی ہیں، جن پر ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی فروخت اور اسلحہ سازی میں معاونت کا الزام ہے۔ذرائع کے مطابق ایران کے مبینہ شیڈو فلیٹ میں شامل جہازوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایرانی تیل کو بیرونی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایرانی حکومت کے مالی ذرائع کو محدود کرنا اور اس کے جوہری و روایتی ہتھیاروں کے پروگرام اور دہشتگرد گروہوں کی مالی معاونت کو روکنا ہے۔امریکی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ایران مالیاتی نظام کا استعمال غیر قانونی تیل کی فروخت، آمدنی چھپانے اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت کے لیے کرتا رہا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کی ہتھیار بنانے کی صلاحیت اور دہشتگردی کی حمایت کو ختم کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھے گی۔اس پیش رفت کو خطے کے امن اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ کسی قسم کا جارحانہ اقدام پورے خطے میں اثرات ڈال سکتا ہے۔















