اسلام آباد(رضوان عباسی سے)وفاقی حکومت سول آرمڈ فورسز میں بھرتیوں کے طریقۂ کار سے متعلق اہم فیصلے کی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے تھرڈ پارٹی یا آؤٹ سورسنگ کے ذریعے بھرتیوں کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے اس طریقۂ کار پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سول آرمڈ فورسز کو رائٹ سائزنگ پالیسی سے استثنیٰ دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ سفارش کی گئی ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے باعث اس فورس میں رائٹ سائزنگ پالیسی کا اطلاق نہ کیا جائے، خصوصاً گریڈ ایک سے چار تک کی بھرتیوں کے معاملے میں خصوصی استثنیٰ دیا جائے۔
ذرائع کے مطابق آؤٹ سورسنگ کے ذریعے بھرتیوں سے استثنیٰ کی سمری وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ سول آرمڈ فورسز کی حساس نوعیت کے پیش نظر بھرتیوں کا عمل براہِ راست اور شفاف حکومتی نگرانی میں ہونا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ موجودہ دور حکومت میں اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت رائٹ سائزنگ پالیسی متعارف کرائی گئی تھی، جس کے تحت جنرل کیڈر اور نان کور سروسز کو آؤٹ سورسنگ کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت مختلف وفاقی اداروں میں کلیننگ، پلمبنگ اور گارڈننگ جیسے شعبہ جات آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں۔
رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت نائب قاصد، مالی اور خاکروب سمیت متعدد نچلے گریڈ کی نئی آسامیوں پر پابندی عائد کی گئی، جبکہ سینٹری ورکر، ریکارڈ سارٹر، کارپنٹر، الیکٹریشن اور پلمبر کی نئی آسامیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ مزید برآں وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں کو نئی آسامیوں کی تخلیق سے روک دیا گیا ہے اور خالی آسامیوں کو ڈائینگ پوسٹس قرار دیا گیا ہے۔
تاہم سیکیورٹی اداروں کی ضروریات کے پیش نظر اب سول آرمڈ فورسز کے لیے اس پالیسی میں نرمی یا استثنیٰ دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
مزید پڑھیں۔راولپنڈی: اوباش نوجوانوں کا گرین بس پر پتھراؤ، شیشے ٹوٹ گئے، مسافر زخمی















