اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے توشہ خانہ ٹو کیس اور 190 ملین پاؤنڈ کیسز میں بانی پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان کی ضمانت اور کیس جلد سماعت کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دیں۔ رجسٹرار آفس نے چاروں درخواستیں وصول کرلیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ بلغاری سیٹ کیس میں سزا معطلی کی درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی جس میں استدعا کی گئی کہ اپیل پر حتمی فیصلے تک بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل کر کے انہیں رہا کیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے کی وجہ سے نظر شدید متاثر ہوئی ہے اور بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، پمز ہسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی تکلیف کا علاج جیل کی حدود میں ممکن نہیں ہے، عمران خان کی عمر 73 سال ہے اور ان کی مسلسل قید ان کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
درخواست میں موقف اپنایا کہ اسپیشل جج سینٹرل ون اسلام آباد نے 20 دسمبر 2025 کو بانی پی ٹی آئی کو غیر قانونی طور پر سزا سنائی، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو دفعہ 409 پی پی سی کے تحت 10 سال قید اور 1 کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانے کی سزا سنائی، ٹرائل کورٹ نے کرپشن کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 5(2) کے تحت کو مزید 7 سال قید کی سزا بھی سنائی۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی پر ایک ہی الزام میں دو مختلف قوانین کے تحت سزائیں دینا قانون کی خلاف ورزی اور ڈبل جیپرڈی کے زمرے میں آتا ہے، بانی پی ٹی آئی پبلک سرونٹ کی تعریف میں نہیں آتے، اس لیے ان پر دفعہ 409 کا اطلاق غلط کیا گیا، توشہ خانہ پالیسی کے تحت تحائف کی قیمت کا 50 فیصد ادا کر کے انہیں قانونی طور پر اپنے پاس رکھا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ سیاسی مخالفین کے ایما پر ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی اور گواہ انعام اللہ شاہ کے بیانات میں تضادات سے بھرپور ہیں۔
مزید پڑھیں۔16فروری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان















