اہم خبریں

اس وقت 16 ہزار سرکاری ملازمین جبری برطرف ہیں،عبدالقادر مندوخیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین و رکن قومی اسمبلی پروفیسر ڈاکٹر قادر مندو خیل نے کہا ہے کہ بیوروکریسی مسائل کی جڑ ہے، ان سےکام کا پوچھو تو انہیں برا لگتا ہے،ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے جو ہو سکا کرونگا، انہیںحقوق کی فراہمی پرکسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرونگا اور اس کیلئے چیئرمین شپ بھی دباؤ پر لگا دونگا ،مسائل کے حل کیلئے جتنی تگ و دو کر سکتا ہوں کر رہا ہوں،انہوں نے یہ باتیں نیشنل پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس کے دوران کہیں، ڈاکٹر قادر مندو خیل کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت 16 ہزار سرکاری ملازمین جبری برطرف ہیں،ریڈیو پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن نہیں دی جا رہی جبکہ ایم ڈی کو کرنے کیلئے کوئی کام ہی نہیں ہے ان سے اس حوالے سے پوچھا جائے کہ جواب ملتا ہے سوچ رہے ہیں یا بورڈ سے منطوری لینے کا کہہ دیتے ہیں، ستر ،ستر لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں لینے والے اور بڑے بڑے دفاتر میں بیٹھ کر چائے پینے اور گپیں لگانے والوں کو غریب ملازم کا کوئی احساس ہی نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ پی ٹی ڈی سی کی کھربوں کی پراپرٹی ہے مگراسکے کئی ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے، ایم ڈی کو شوکاز جاری کیا ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو محکمے اور ملازمین مل گئے ہیں، نائب قاصد کی بھرتی کیلئے تین تین انٹرویوز لئے جاتے ہیں مگر کسی ادارے کا ایم ڈی یا چیئرمین لگانے کا کوئی میرٹ نہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں ایڈہاک اور ڈیلی ویجز ملازمین کے کیسز ہی نہیں سنتیں،پاکستان کا جوڈیشل سسٹم دنیا میں 140 ویں نمبر پر ہے ہم نے اسے بہتر بنانا ہے،انہوں نے کہاکہ چیئرمین شپ کی سیٹ پر عوامی مسائل حل کرنے کیلئے بیٹھا ہوں پیسہ بنانے کیلئے نہیں، یہ پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی ہےجس کے پاس پورے اختیارات ہیں۔

متعلقہ خبریں