لاہور(اے بی این نیوز) لاکھوں روپے فی طالب علم فیسیں وصول کرنے والی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی (BNU) کو چیریٹی ادارہ قرار دینے کا بل متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔
کمیٹی اجلاس میں اراکین نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا۔ اراکین کا مؤقف تھا کہ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کو فلاحی ادارہ قرار دیے جانے کی صورت میں اسے ٹیکسوں میں بڑی چھوٹ حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ اربوں روپے کمانے کے باوجود مختلف اقسام کے ٹیکسوں سے استثنیٰ کا معاملہ بھی پیدا ہوگا۔
اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ چیریٹی ادارے کا درجہ ملنے کے بعد یونیورسٹی بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فلاحی ادارہ ہونے کی بنیاد پر اربوں روپے کی فنڈنگ بھی حاصل کر سکتی ہے۔
کمیٹی اجلاس میں بل کے مختلف پہلوؤں پر بحث جاری رہی، تاہم اراکین کی مخالفت کے باعث معاملہ مزید غور کے لیے زیر بحث رہا۔ کمیٹی کا اجلاس سوموار تک ملتوی کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: راولپنڈی میں شوہر نے ملازم اور والد کے ساتھ مل کر بیوی کو قتل کردیا،لاش باتھ روم سے برآمد















