اسلام آباد ( اے بی این نیوز )سینیٹرفیصل واوڈا نے کہا ہے کہ میری اورمصطفی کمال کی آج سپریم کورٹ میں پیشی تھی۔ چیف جسٹس،ان کابینچ ایمانداراورمعززہے۔ عدالت مجھےکہتی ہے کہ آپ نےتوہین کی تومعافی مانگ لوں گا۔ میں عدالت کےفیصلے کوچیلنج نہیں کروں گا۔ مجھےعدالت سےمعافی مانگنےپرکوئی مسئلہ نہیں۔ ججزکےقلم میں بندوق سےزیادہ طاقت ہے۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے مصطفی کمال کی فوری معافی کی استدعا مسترد کر دی۔ توہین آمیز پریس کانفرنس نشر کرنے پر تمام ٹی وی چیلنز کو نوٹسز جاری,, دو ہفتوں میں جواب طلب۔ فیصل واوڈا کو جواب پر نظرثانی کے لیے ایک ہفتے کی مہلت ۔ چیف جسٹس نے ریما رکس میں کہا ایک بیان میں کوئی دس بار توہین کرے تو جرمانہ دس لاکھ ہوگا ؟ آپ ڈرائنگ روم میں بات کرتے تو الگ بات تھی۔ پارلیمنٹ میں بات کرتے تو کچھ تحفظ حاصل ہوتا۔
آپ پریس کلب میں بات کریں اور تمام ٹی وی چینل اس کو چلائیں تو معاملہ الگ ہے۔ فیصل واوڈا صاحب آپ تو سینیٹ یعنی ایوان بالا کے ممبر ہیں۔ سینیٹ ممبران کو تو زیادہ تہذیب یافتہ تصور کیا جاتا ہے۔ ہمیں پارلیمنٹ کا احترام ہے۔ اگر پاکستان کی خدمت کیلئے تنقید کرنی ہے تو ضرور کریں۔ جو لوگ گالم گلوج کرتے کہاں سے اثر لیتےہیں۔ کیا ایسا دینی فرائض میں ہے؟ ہمیں کسی کو توہین کا نوٹس دینے کا شوق نہیں۔ ہم نے نہیں کہا ہمارے فیصلوں پر تنقید نہ کریں۔
مصطفیٰ کما ل نے اگر توہین نہیں کی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ہیں ۔ ایسی گالم گلوچ کسی اور ملک میں بھی ہوتی ہے ؟ مجھے جتنی گالیاں پڑی ہیں شاید کسی کو نہ پڑی ہوں ۔۔ہم نے کبھی کہا فلاں سینیٹر نے اتنے دن اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی ۔ آپ نے کس حیثیت میں پریس کانفرنس کی تھی ۔
آپ بار کونسل کے جج ہیں کیا ۔ یہاں بھی لوگ بیٹھے ہیں بڑی بڑی ٹویٹس کر جاتے ہیں ۔ چیف جسٹس کا صحافیوں کی طرف اشارہ ۔ کہاجو کرنا ہے کریں بس جھوٹ تو نہ بولیں ۔ صحافیوں کو ہم نے بچایا ہے ان کی پٹیشن ہم نے اٹھائی۔ ۔ کیس کی سماعت 28 جون تک ملتوی کر دی گئی۔
مزید پڑھیں :بانی پی ٹی آئی پر مزید مقدمات بن سکتے ہیں اور بنائے جاسکتے ہیں، راناثنااللہ















