اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ملکی سیاسی صورتحال میں نئی ہل چل،مزید 35 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور ہونے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں پی ٹی آئی وفد اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر پہنچ گیا۔لیکن اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف چیمبر میں موجود نہیں ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ اسدعمر، شیریں مزاری، ملیکہ بخاری اور تاشفین صفدر فواد چوہدری اسپیکر چیمبر میں موجود ہیں۔واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے استعفے منظور کرکے مزید کارروائی کے لیے تفصیلات الیکشن کمیشن کو بھجوا دیں۔
بعدازاں پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماوں نے کہا کہ اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ہمیں اسمبلی میں بلوایا تھا، میں ایسے استعفے منظور نہیں کر سکتا، کیا جن کے استعفے منظور کیے گئے انہیں اسپیکر نے بلایا تھا؟، یہ غیرقانونی ہے، جمہوریت کے نام پر مذاق ہے ۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہم ایک مجبور، لاچار پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں، پاکستان آج بہت بڑے سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے، خدشہ ہے کہ ہم سری لنکا جیسی صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں، مریم نواز کے کہنے پر 2 ارکان نے استعفے نہیں دیے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ جوحکومت اب ہے وہ صرف 36 فیصد کی نمائندہ ہے،بند کمروں کے فیصلے ہیں جن کی وجہ سے عوام بحران کا سامنا کررہے ہیں، ہماری 81 ایم این ایز کی نشستوں پر استعفے منظور ہوچکے ہیں، ہمیں عام انتخابات کی تاریخ دی جائے۔
اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنماءاسد عمر نے کہاکہ ملک ہر گزرتے دن کیساتھ تباہی کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج اسپیکر نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ کسٹوڈین آف دی ہاؤس نہیں، اسپیکر نے کہاتھااجتماعی استعفے منظور نہیں کرسکتا، ہم نے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا، انہوں نے اجلاس موخر کردیا، ہم نے اسمبلی میں آنے کا فیصلہ کیا،انہوں نے مزید 35 ممبرز کے استعفے منظور کرلیے ، جو باقی رہ گئے تھے ہم ان کو بھی اسمبلی لے آئے، آپ نے ہمارے 81 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کیا، ہم باقیوں کو لائے تھے کہ ان کے بھی منظور کریں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب تک ان کے کیسز موجود ہیں یہ اسمبلی کو طول دیں گے، ہم تو پنجاب میں آزمائش پر پورے اترے، آپ اپنے ممبرز کو آزمائش میں ڈالنے سے بھی کترا رہے ہیں ،ہم نئے انتخابات چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں عوام فیصلہ کریں، یہ معیشت مستحکم نہیں کرسکے،دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے۔















