اہم خبریں

اسلام آباد جیل کی تعمیرکا منصوبہ 7سال بعد بھی نامکمل،لاگت 8 ارب تک پہنچ گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دس ارب روپے سے تعمیر ہونے والا اسلام آباد کی جیل کی تعمیر کا منصوبہ سات سال میں بھی مکمل نہ ہو سکا لاگت آٹھ ارب روپے بڑھ گئی 18 ارب کا پی سی ون پی ڈبلیو ڈی نے منظوری کے لئے وزارت داخلہ کو دوبارہ بھیج دیا تین ماہ سے زیادہ گذر گئے پلاننگ ڈویژن، وفاقی حکومت کا جیل خانہ جات کا محکمہ بھی نہ ہونے کی سست روی کے باعث التوا کا شکار،جیل کی تعمیر 10ارب روپے سے شروع ہونی تھی جو وزارت داخلہ نے 2018 میں تعمیر روک کر ایف آئی اے کو پانی کا حکم دیا جو آج تک مکمل نہ ہوسکی ذرایع کے مطابق وزارت ہاوسنگ کے ذیلی ادارے پاک پی ڈبلیو ڈی کو اسلام آباد کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری کیے ابتدائی طور پر جیل کی تعمیر پر 10 ارب روپے سے مکمل ہونا تھی لیکن وزارت داخلہ نے 2017 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کو ایک سال بعد ہی روک دیا اور ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل کی تعمیر میں تعمیراتی کمپنی کو زیادہ ریٹ پر ٹینڈر جاری کرنے پر پر ٹینڈر جاری کیے تھے اوصاف کی تحقیقات کے مطابق اسلام آباد کی جیل میں ابتدائی طور پر دو ارب روپے کی لاگت سے18 فٹ دیوار اور مختلف بلاکس کی تعمیر جاری ہے اس منصوبہ کو سات سال گزر گئے پانچ سال سے کام بند ہے 21 جون 2021 کو فنڈز دے تھے اس کے بعد فنڈ بند ہیں بندہو نے کی و جہ سے ابھی تک اس پر دوبارہ کام شروع نہیں ہو سکا اب آٹھ ارب روپے لاگت بڑھ گئی پی سی ون پی ڈبلیو ڈی نے منظوری کے لئے دوبارہ بھیج دیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل کی تعمیر میں مجموعی طور پر 50 اٹیم کی تعبیر ہونا تھی جس میں ہسپتال سمیت رہائشی بلاکس، پریڈ گراونڈ، فیکٹری اور منصوبے جن کی تعداد پچاس کے قریب ہے اس میں صر ف چار تعمیر کی تعمیر ابھی جاری ہے اور اس میں پھانسی گھاٹ بھی بنایا جانا تھا تھا وزارت ہاو سنگ کے ذیلی ادارے پاک پی ڈ بلیو ڈی نے منصوبے کا دوبارہ پی سی ون تیار کیا جس پر اب مزید آٹھ ارب روپے کی لاگت بڑھ چکی ہے اب یہ منصوبہ مجموعی طور پر 18 ارب روپے سے تیار ہو گا ابھی تک اس کی منظوری نہیں ہو سکی اسلام آباد جیل کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی جیل کی تعمیر میں میں التوا کا شکار ہونے کی وجوہات سامنے آئی ہیں اس حوالے سے پتہ چلا کہ جیل خانہ جات پنجاب کو اس وقت وفاقی حکومت اسلام آباد کے مختلف مقدمات میں قیدیوں کی مد میں25سوروپے فی کس دیا جاتا ہے جو سالانہ ایک ارب روپے تک جا پہنچتا ہے اور دوسری جانب ابھی تک وفاقی حکومت کا جیل خانہ جات کا محکمہ بھی نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ التوا ہے ہے۔

متعلقہ خبریں