اسلام آباد ( اے بی این نیوز )چیئرمین گوہر علی خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا ورچوئل اجلاس شروع ۔ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب،قائد خزب اختلاف سینٹ سینٹر شبلی فراز ودیگر اراکین شریک۔ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کے لیگل کیسز بارے بریفنگ دی جارہی ہے۔ اجلاس میں اپوزیشن مخالف تحریک سے متعلق امور بھی زیر غور ہیں۔ ادھر دوسری جانب بانی پی ٹی آئی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عدالتی کارروائی کی براہِ راست نشریات پر پابندی بلاجواز، امتیازی اور عوام کو مصدقہ اطلاعات تک رسائی کے بنیادی دستوری حق سے محروم کرنے کی کوشش قرار ۔ ترجمان تحریک انصاف کے مطابق نیب
مزید پڑھیں :کرک ،نشپا کنویں 10 سے پیداوارمیں اضافے کا اعلان کر دیا گیا
ترامیم کا معاملہ عمران خان کی ذات کا نہیں 24 کروڑ پاکستانیوں کے وسائل کے تحفظ، انسدادِ بدعنوانی کے ریاستی نظام کی تقویت اور مجموعی قومی مفادات کی نگہبانی کا معاملہ ہے۔ پانامہ اور پنڈورہ لیکس کے بعد تازہ ترین دبئی لیکس نے بھی ثابت کر دیا کہ اس ملک میں واحد قومی رہنما بانی پی ٹی آئی ہی ہیں جن کا مالیاتی ریکارڈ شفاف ترین اور جینا مرنا، دولت جائیداد سب پاکستان میں ہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی جس نیب قانون میں ترامیم کی راہ روک کر کرپشن کے نظام کی مضبوطی چاہتے ہیں اسی کی سربراہی پر بیٹھے ایک بےایمان چیئرمین نے 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن میں ان کے خلاف مرکزی سہولتکار کا کردار ادا کیا۔ قومی اہمیت کے اس معاملے پر بطور درخواست گزار عدالت کے سامنے اپنا نکتۂ نظر بیان کرنا بانی پی ٹی آئی کا بنیادی قانونی حق تھا۔ چیف جسٹس ساتھی ججوں کی واضح رائے کے بعد بانی چیئرمین کی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی مخالفت تو نہ کرسکے مگر انہوں نے عدالتی کارروائی کی براہِ راست نشریات روک کر انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں :پندرہ دن کا وقت دے رہا ہوں وفاقی حکو مت میرے ساتھ بیٹھے،وزیر اعلیٰ کے پی
دورانِ سماعت جیل سے ویڈیو لنک پر پیشی کے باوجود بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو نیب ترامیم پر اپنا مؤقف دینے سے محروم رکھا گیا۔ دستور کا آرٹیکل 10-A منصفانہ ٹرائل جبکہ 19-A ریاست کو شہریوں کی مصدقہ اطلاعات تک رسائی یقینی بنانے کا پابند بناتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کسی جرم یا گناہ کے بغیر محض سیاسی وجوہات کی بنا پر بدترین ریاستی انتقام کی زد میں ہیں۔ گزشتہ کم و بیش ایک برس سے ریاست نے بانی پی ٹی آئی کی تقریر، تصویر اور تحریر کی نشر و اشاعت پر غیرقانونی اور غیرآئینی پابندی عائد کررکھی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان بتائیں کس کے اشارے پر انہوں نے آئین و قانون پسِ پشت ڈال کر بانی پی ٹی آئی پر عائد اس ماورائے دستور پابندی کو جواز بخشنے کی کوشش کی۔ بانی پی ٹی آئی کی عدالتی پیشی کے موقع پر نمودار ہونے والی ایک جھلک پر قوم کے ردعمل نے گزشتہ دو برس سے جاری ریاستی انتقام اور عدالتی سہولتکاری کو مسترد کیا ہے۔















