اسلام آباد ( اے بی این نیوز )شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کیا کرنا تھا جو براہ راست کارروائی نہیں دکھائی گئی۔ وزرا اور حکومت سےووٹ لے کر سینیٹر بننے والوں نے عدلیہ پر حملے شروع کردیئے۔ ایسے لوگوں کا کیسز سے کوئی لینا دینا نہیں اور عدلیہ کو ٹارگٹ کر لیا۔ ججز کے بات واضح ہو گیا کہ عدلیہ دبائو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے علاوہ دیگر ججز نے بھی دبائو سے متعلق خط لکھے۔ دھمکیاں دے کر عدلیہ کو دبانے کی کوشش کی جائے گی تو یہ بھونڈی کوشش ہے ۔
مزید پڑھیں :طارق بشیر چیمہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے متعلق سوچ رہا ہوں،شیر افضل مروت
عدلیہ کو ایسے پریس کانفرنسز کر کے دھمکیاں دینے والوں کو مثال بنا دینا چاہیے۔ کسی جج کو دھمکیاں دی جارہی ہیں تو ادارے کے سربراہ کو ایکشن لینا چاہیے۔ ججز ایکشن لیتےہیں یا لے رہےہیں بالکل لینا چاہیے اور مثال بنانا چاہیےْ۔ عدلیہ کو دھمکیاں دینے والوں کو نااہل کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کو اس قسم کی پریس کانفرنسز کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ پریس کانفرنس کر کے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔















