کراچی(نیوز ڈیسک) حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر جس کو انتظامی لحاظ سے چھ اضلاع ، ضلع حیدرآباد، ضلع دادو، ضلع جامشورو ، ضلع مٹیاری، ضلع ٹنڈوالٰہیاراور ضلع ٹنڈو محمد خان میں تقسیم کیا گیا ہے ۔سندھ کے دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے سات، حیدرآباد کے 6 اور ٹھٹہ کے تین اضلاع میں پولنگ 15 جنوری کو ہورہی ہے ۔حیدرآباد میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریبا ساڑھے 34 لاکھ ہے ، بلدیاتی انتخابات کیلئے 128 چیئرمین ، وائس چیئرمین، 491 جنرل ممبرز اور وارڈز، جبکہ 160 یونین کونسلز کی نشستوں پرمجموعی طور پر 2ہزار 551 امیداوارمیدان میں اتریں گے ۔حیدرآباد میں پی پی پی ، ایم کیوایم پاکستان، پی ٹی آئی و دیگرجماعتوں کے امیدوار حصہ لے رہے ہیں تاہم چیئرمین ، وائس چیئرمین کی 26 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی بلامقابلہ جیت چکی ہے جبکہ اسے حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب میں سادہ اکثریت کے ساتھ مزید 55 نشستیں درکار ہیں ۔بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حیدر آباد، مٹیاری، جامشورو، ٹنڈو الہیار، ٹنڈو محمد خان اور دادو میں یونین کمیٹیوں کے چئیرمین ، وائس چیئرمین ، جنرل ممبرز کی 6774 نشستوں پر انتخاب ہونگے جبکہ 11ہزار 226 امیدوار انتخابی میدان میں اتریں گے ۔جامشورو میں 5 لاکھ پانچ ہزار وووٹرز، ٹنڈو الہیار میں تین لاکھ 85 ہزار، دو لاکھ 81 ہزار ٹنڈومحمد خان اور دادو میں 9لاکھ 12ہزار ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔حیدرآباد میں اگرچہ ایم کیوایم پاکستان دوسری بڑی سیاسی جماعت ہےلیکن جیت کیلئے 81 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ہوگی ۔حیدرآباد کے دوسرے ضلع مٹیاری میں کُل تین لاکھ 68 ہزار ووٹرز انتخابی عمل میں حصہ لیں گے جبکہ جامشورو کی تین میونسپل کمیٹیوں ، 30 یونین کونسلز اور 5 ٹاؤن کمیٹیوں میں انتخابات ہورہے ہیں ۔















