اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی تعیناتی سے متعلق ریکارڈ طلب کرنے کا تحریری حکم جاری کردیا ،تین صفحات پر مشتمل حکمنامہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا،حکمنامہ کے مطابق اشتر اوصاف نے بطور اٹارنی جنرل کچھ ماہ قبل استعفیٰ دیدیا تھا،کافی وقت گزرنے کے باوجود نیا اٹارنی جنرل تعینات نہیں کیا گیا، ڈپٹی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل سادہ سوال کا جواب بھی نہ دے سکے کہ اٹارنی جنرل کون ہیں،اٹارنی جنرل آئینی عہدہ ہے جسے خالی نہیں چھوڑا جا سکتا،آئین میں کسی قائم مقام اٹارنی جنرل کی کوئی گنجائش نہیں،قانون کے مطابق معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو نوٹس کیا جاتا ہے کسی ڈپٹی کو نہیں،ایڈیشنل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل، اٹارنی جنرل کی ہدایت پر ہی عدالت آتے ہیں ،آئندہ سماعت پر سیکرٹری قانون اور جو بھی اٹارنی جنرل ہوں حاضری یقینی بنائیںسپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ایڈیشنل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل، اٹارنی جنرل کے متبادل نہیں ہو سکتے۔















