اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیرداخلہ راناثناللہ نے کہادعویٰ کیا ہے کہ پرویزالٰہی نے آج ہمارے ایک سینئر رکن کو فون کیا اور کہاکہ تحریک عدم اعتما د لائیں تاکہ اسمبلی تحلیل نہ کروں،پنجاب اسمبلی توڑنے کا عمل غیرآئینی و غیرجمہوری ہے،اگر پنجاب اسمبلی ٹوٹ جائے تو نگران سیٹ اپ آجائے گا،ہم پنجاب کاالیکشن اکثریت سے جیت کر دکھائیں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے راناثنااللہ نے کہاکہ پرویزالٰہی نے آج ہمارے ایک سینئر رکن کو فون کیا اور کہاکہ تحریک عدم اعتما د لائیں تاکہ اسمبلی تحلیل نہ کروں۔انہوں نے کہاکہ اسمبلی توڑنے کا عمل غیرآئینی و غیرجمہوری ہے۔انہوں نے کہاکہ سمری موصول ہونےپرگورنرکو دستخط کرنے کی کیاضرورت ہے؟48 گھنٹے میں اسمبلی خودبخود ٹو ٹ جائے گی ،پنجاب اسمبلی ٹوٹ جائے تو نگران سیٹ اپ آجائے گا،اگر یہ دونوں صوبوں میں الیکشن کرواناچاہتے ہیں تو کروالیں،دونوں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن 90 دن میں ہو جانے چاہئیں،ہم دونوں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن لڑیں گے ۔انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ نےسیاسی انجینئرنگ نہیں کی،عمران خان جھوٹ بول رہا تھا، اس نے ہمیشہ جھوٹ کی سیاست کی ہے ،وہ کبھی درست بات نہیں کرتا۔راناثنااللہ نے کہاکہ ہماری پارٹی میں پہلے مضبوط رائے تھی کہ انہیں اسمبلیاں توڑنے دیں ،عمران نے بار بار تاریخیں دیں تو ہم نے سوچاکہ آئینی آپشن استعمال کرناچاہئے ،ہم نے گورنرکے ذریعے ایڈوائس بھجوانے کا حق استعمال کیا۔انہوں نے کہاکہ سندھ اور بلوچستان سے کیا زبردستی کہیں کہ اسمبلیاں توڑیں ،وفاق 16 اگست تک قائم رہے گا،بہترہے کہ قومی اسمبلی کا الیکشن بھی دیگردوصوبوں کے ساتھ ہو۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ ان کے 12,13 لوگ ہم سے رابطے میں تھے ،انہوںنے ہم سے خود رابطہ کرکے کہاتھاکہ ہم ان کے ساتھ نہیں کھڑے تاہم بعد میں سات لوگ واپس چلے گئے،12 میں سے پانچ لوگ کھڑے رہے،الزام تھا کہ ہم نے لوگوں کو پیسے دیئے وہ الزام اب کہاں گیا؟ الیکشن آئے گا تو پتہ چل جائے گا کہ ان کی شہرت کہاں ہے؟۔انہوں نے کہاکہ تین سے چھ ماہ میں ملک کی معاشی صورت حال بہتر کریںگے۔انہوں نے کہاکہ حمزہ شہبازوالدہ کی تیمارداری کے لئے لندن میں ہیں،ان کی رہنمائی رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان سیاسی مینجمنٹ کے ماہر ہیں تو آئینی مدت پوری کرتے ۔انہوں نے کہاکہ 16 اگست کو نگران سیٹ اپ آجائے گااور 23 اکتوبر کو الیکشن ہوجائیں گے،وقت پر الیکشن کرواناالیکشن کمیشن کا کام ہے۔















