اہم خبریں

غیر رجسٹرڈ سگریٹ فیکٹریاں سرگرم ، قومی خزانے کو مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا

آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر اور میرپور ریجن میں مبینہ غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں Cigarette Mafiaکے معاملے نے ایک بار پھر انتظامی حلقوں اور سیاسی منظرنامے میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ٹیکس نیٹ، ریونیو ہدف اور مبینہ مافیا نیٹ ورک کے گرد گھومتا یہ معاملہ اب ایک اعلیٰ افسر کی ترقی اور ممکنہ تعیناتی کے بعد مزید زیر بحث آ گیا ہے۔

مقامی سطح پر یہ دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں کہ بھمبر کے کچھ علاقوں میں مبینہ طور پر غیر رجسٹرڈ سگریٹ فیکٹریاں سرگرم تھیں، جن سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ اسی تناظر میں افسر پر سہولت کاری سے متعلق الزامات بھی زیر گردش ہیں، تاہم ان الزامات کی کسی آزاد ادارے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی مذکورہ افسر سے متعلق مختلف نوعیت کی بازگشت سامنے آتی رہی ہے، تاہم ان کے خلاف کوئی حتمی یا باضابطہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اب ان کی نئی تعیناتی کے بعد محکمہ ایکسائز کے اندرونی حلقوں میں بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔

پنکی نیٹ ورک کے گرد گھیرا تنگ،گینگ کا پنجاب میں روپوش ہو نے کا انکشاف

ادھر آزاد کشمیر حکومت کا سالانہ ٹیکس ہدف تقریباً 85 ارب روپے بتایا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی ذرائع کے مطابق غیر قانونی صنعتوں کے خلاف کارروائی اس ہدف کے حصول کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسی پس منظر میں مبینہ سگریٹ مافیا کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے۔

سیاسی و انتظامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا متعلقہ فیکٹریوں اور نیٹ ورکس کے خلاف باقاعدہ اور شفاف تحقیقات ہوں گی یا نہیں۔ عوامی سطح پر بھی اس معاملے نے بحث چھیڑ دی ہے اور شفافیت، احتساب اور ٹیکس نظام کی مضبوطی پر زور دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں