کراچی(نیوز ڈیسک)نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پہلے ون ڈے انٹرنیشل میں پاکستان نے باآسانی 6وکٹ سے فتح پائی،پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا دوسرا مقابلہ آج نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوگا، ٹرافی پر قبضے کیلئے گرین شرٹس کا دل مچلنے لگا۔دوسرا میچ بدھ کو کھیلا جائے گا، جیت کی صورت میں گرین شرٹس کو 2-0سے فیصلہ کن برتری حاصل ہوجائے گی، پاکستانی پلیئنگ الیون میں کسی تبدیلی کا امکان بہت کم ہے۔اننگز کی ابتدا میں گیند بیٹ پر نہیں آرہی تھی مگر میزبان بیٹرز نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوی بولرز کو حاوی ہونے کا موقع نہیں دیا،پھر بروقت اسٹرائیک ریٹ میں بہتری لاتے ہوئے ہدف11بالز قبل حاصل کرلیا۔ٹاپ آرڈر میں فخرزمان نے اچھی اننگز کھیلی، امام الحق بڑا اسکور نہیں کرپائے اور اب ناکامی کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے،بابر اعظم اور محمد رضوان عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے کا عزم لیے میدان میں اتریں گے۔پہلے میچ میں 5شکار کرنے والے نسیم شاہ کا اعتماد بلندیوں پر ہوگا، مہنگے ثابت ہونے والے حارث رؤف کو لائن و لینتھ بہتر بنانا ہوگی،وسیم جونیئر کو بھی اکانومی ریٹ بہتر کرنا ہے، اسامہ میر، محمد نواز اور سلمان علی آغا کی موجودگی میں اسپن کا مضبوط جال کیویز کا منتظر ہوگا۔ادھر نیوزی لینڈ کو جارح مزاج اوپنرز فن ایلن، ڈیون کونوے کی خدمات حاصل ہیں، مڈل آرڈر میں کپتان کین ولیمسن، ڈیرل مچل اور ٹام لیتھم جیسے تجربہ کار بیٹرز موجود ہیں، البتہ پہلے میچ میں بیشتر بیٹرز اچھے آغاز کو بڑے اسکور میں تبدیل نہیں کرپائے تھے، بڑے اسکور کیلیے اس خامی پر قابو پاتے ہوئے 1، 2 کو بڑی اننگز کھیلنا ہوں گی۔مچل بریسویل اچھی اسپن بولنگ کے ساتھ عمدہ بیٹنگ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،نیوزی لینڈ کی پیس بیٹری پہلے ون ڈے میں زیادہ مشکلات نہیں کرپائی تھی،ٹم ساؤدی، لوکی فرگوسن اور ڈیبیو کرنے والے ہینری شپلے کو لائن و لینتھ میں بہتری لاتے ہوئے رنز کا بہاؤ روکنے کے ساتھ وکٹیں بھی اڑانا ہوں گی۔مچل سینٹنر، مچل بریسویل اسپن کا جادو جگانے کی کوشش کریں گے، پارٹ ٹائم سلو بولر گلین فلپس نے بھی پہلے ون ڈے میں بہتر بولنگ کا مظاہرہ کیا تھا،ان سے بھی چند اوورز کرانے کا امکان ہے، رات کو پڑنے والی اوس کے پیش نظر ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے بیٹنگ کو ترجیح دے گی۔نیشنل اسٹیڈیم کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے 280کا مجموعہ معقول سمجھا جارہا ہے،کنڈیشنز پیسرز کیلیے زیادہ سازگار نہ ہونے کی وجہ سے ٹیموس کو فیلڈنگ کے دوران ملنے والے مواقع ضائع کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔














