اسلام آباد(اے بی این نیوز )وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سمیت حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں میں جس کسی کو بھی تحفظات ہیں، قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی میں لے کر آئیں، مل بیٹھ کر ان کا جائزہ لیں گے۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اسحق ڈار نے کہا کہ بجٹ منظور ہو گیا ہے، فنانس کمیٹی کے ذریعے اپنی تجاویز لے کر آئیں ان پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ کابینہ نے توانائی کی بچت اور دیگر اہم اقدامات کی منظور دی، وزراء کی اکثریت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت تنخواہ بھی نہیں لے رہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانس کمیٹی کا احترام کرتے ہیں، تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کا فیصلہ ہم نے سب کی اجازت سے کیا ہے، یہ ممکن نہیں تھا کہ ایک ادارے کی 98 فیصد اور باقی اداروں کی 20 فید تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں سندھ اور بلوچستان کے حوالے سے بعض نئی سکیمیں شامل کی گئی ہیں جن کو بعد میں پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا، پی ایس ڈی پی کی نئی تریم شدہ تفصیلات میں پیش کی جائیں۔ قبل ازیں صابر حسین قائمخانی نے کہا کہ بجٹ کے موقع پر سرکاری ملازمین نے بڑی جانفشانی سے کام کیا ہے، حسب روایت ان کے لئے اعزازیہ کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا بجٹ ایوان منظور کرتا ہے، فنانس کمیٹی اور اس ایوان کو اختیار ہونا چاہیے جو بھی چیز غیر ضروری ہو گی ہم خود اس کو ختم کریں گے، وزارت خزانہ کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اسمبلی کے بجٹ پر کٹ لگائے۔ صابر حسین قائمخانی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اسمبلی کے اخراجات کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی ہے۔















