اسلام آباد: جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا ہے۔ یورپی یونین کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران پاکستان نے اس تجارتی سہولت سے ریکارڈ سطح پر استفادہ کرتے ہوئے اپنی برآمدات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
یورپی یونین کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان کی 7.1 ارب یورو مالیت کی برآمدات نے جی ایس پی پلس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اس اسکیم سے 95.1 فیصد استفادہ کیا، جو دنیا کے تمام مستفید ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے مختلف قانونی اور پالیسی اصلاحات کو بھی سراہا گیا ہے۔ ان میں انسدادِ تشدد قانون کے نفاذ کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری، بلوچستان اور اسلام آباد میں کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق نئے قوانین، اور سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
یورپی یونین نے جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے پروٹوکول کی توثیق اور غیر رسمی شعبے کے کارکنوں کو رسمی معیشت میں شامل کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔
رپورٹ میں بدعنوانی کے خلاف حکومتی اقدامات کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا، تاہم عدالتی خودمختاری، اظہارِ رائے، میڈیا کی آزادی، خواتین کے خلاف تشدد، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت جیسے شعبوں میں مزید اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت تمام موجودہ جی ایس پی پلس ممالک کو 2027 میں متعارف کرائے جانے والے نئے نظام کے تحت دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جبکہ موجودہ ممالک کو 2028 کے اختتام تک عبوری مہلت دی جائے گی۔
یورپی یونین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی قدرتی آفات نے بعض اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد کی رفتار کو متاثر کیا، تاہم اس کے باوجود ملک نے متعدد اہم شعبوں میں پیش رفت جاری رکھی۔















