اہم خبریں

مزارِ قائد دوبارہ عوام کے لیے کھولنے کا فیصلہ، تین سال بعد بڑی پیش رفت

مزارِ قائد دوبارہ عوام کے لیے کھولنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ سکیورٹی وجوہات کے باعث گزشتہ تین برس سے عام شہریوں کے لیے بند رہنے والے مزارِ قائد کو اب بہتر حفاظتی انتظامات کے تحت دوبارہ کھولنے کی منظوری دی گئی ہے۔

قومی ورثہ و ثقافت سے متعلق سینیٹ کی ذیلی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید وقار مہدی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مزارِ قائد اور اس کے اطراف کے انتظامی، ترقیاتی، صفائی، سکیورٹی اور مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی کے متعلقہ حکام اور کمشنر کراچی سے مشاورت کے بعد مزارِ قائد کو عوام کے لیے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق شہریوں کی آمد کے دوران سکیورٹی پروٹوکول پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ زائرین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

کمیٹی کے چیئرمین سید وقار مہدی نے کہا کہ مزارِ قائد کوئی تجارتی یا رہائشی مقام نہیں، اس کے باوجود بجلی کے اخراجات غیر معمولی حد تک زیادہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مزارِ قائد کے اطراف حفاظتی باڑ اور دیگر بنیادی ڈھانچہ خستہ حالی کا شکار ہے، جسے فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ اطراف کے علاقوں میں چوری کی روک تھام کے لیے جدید سکیورٹی کیمرے نصب کیے جائیں، جبکہ سیاسی اجتماعات کے لیے استعمال ہونے والے گراؤنڈ کی فیس کو بھی مناسب سطح پر لانے پر غور کیا جائے۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت موجودہ ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔ اس لیے مزارِ قائد دوبارہ عوام کے لیے کھولنے کا فیصلہ مؤثر انداز میں نافذ کرنے اور قومی یادگار کی دیکھ بھال بہتر بنانے کے لیے خصوصی گرانٹ کی سفارش کی جائے گی۔ ساتھ ہی تمام صوبوں سے بھی اس قومی ورثے کی حفاظت اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں