اہم خبریں

اراکین قومی اسمبلی نے موجودہ حالات میں بجٹ کو بہتر بجٹ قرار دیدیا

اسلام آباد (اے بی این نیوز)قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2023-24پر بحث آٹھویں روز بھی جاری رہی۔اراکین اسمبلی نے موجودہ حالات میں اس بجٹ کو بہتر بجٹ قرار دیا جبکہ نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔چوہدری محمد برجیس طاہرنے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جن حالات میں یہ بجٹ پیش کیا گیا ہے،معاشی استحکام کے لیئے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے،محمد خان جو نیجو،بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ،نواز شریف نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایااسے بھی جیل بھیج دیا گیا،پرویز مشرف نے دوبار آ ئین کو توڑاعدالت نے مشرف کی غیر موجودگی میں اسے پھانسی کی سزا سنائی,24گھنٹوں کے اندر عدالت ختم کردی گئی اور مشرف کو بری کردیاگیا،مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے اور لاہور میں کورکمانڈر کے گھر پر حملے پر میں بہت رویا,ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنیوالوں کو سر عام سزا دینا ہو گی،جسٹس نسیم حسن شاہ نے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو غلط پھانسی دی گئی ۔تین ارب ڈالر صفر سود پر 600 لوگوں میں تقسیم کیئے گئےان کا حساب کون دیگا؟ اس ملک میں 150 لاکھ گاڑیاں سرکاری تیل پر چل رہی ہیںسالانہ 70 ارب روپے ان پر خرچہ ہےان کی گاڑیاں واپس لی جائیں۔محمد اسلم بھوتانی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایک اچھا بجٹ ہےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ ہے،احسن اقبال نے ڈویلپمنٹ بجٹ میں اتحادیوں کا خصوصی خیال رکھا،نو مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو ضمانتیں دی جا رہی ہیں کسی کو سزا نہیں مل رہی ،بلوچستان کے لوگوں نے نو مئی جتنا ظلم نہیں کیا جتنی انہیں سزا دی جا رہی ہےبلوچستان میں بھی کوئی باعزت پناہگاہ بنا کر دے دیں۔ پیر سید فضل علی شاہ جیلانی نے کہا کہ اس ملک میں نیک نیتی کی کمی ہےہمارے ملک میں موجود معدنیات سے ہمارے لوگوں کو محروم رکھا جا رہا ہےہمیں اپنی عوام کو دو وقت کی روٹی عزت کیساتھ دینا ہوگی ،چھوٹے گریڈ کے ملازمین کی تنخواہ میں مزید اضافہ کرناہوگا،جس دن ہم سود کا خاتمہ کردینگے اس دن ہمارا ملک خوشحال ہو جائیگا،امیروں کے قرضے معاف ہوجاتے ہیں لیکن ایک ہاری کاقرضہ معاف نہیں ہوتاغریب ہاری کے قرضوں پر موجود سود ختم کیا جائے۔صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ پچھلے ساڑھے تین سال میں ملکی معیشت کو تباہ کیا گیا،ایک شخص نے ملک کے تشخص اور اسلامی اقدار کو تباہ کیا،یہ بجٹ پاس کرنا ایک نعمت ہےقرضے ہڑپ کرنیوالوں سے قرضے واپس لیئے جائیں،اذان کے بعد نماز کا وقفہ ضرور ہونا چاہیئے اس بارے میں قانون منظور ہو چکاہے۔سید جاوید علی شاہ جیلانی نے کہا کہ اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا،ہم مشکل حالات میں ہیں،ون یونٹ کے قیام سے صوبوں میں نفرت پھیلی ،اداروں کا احترام بہت ضروری ہےنو مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوںسب حدیں پار کرنیوالوں کو قرار واقعی سزا دی جائےعدالتیں کہیں زمان پارک جاکر اسے ضمانت نہ دے دیں،سندھ میں سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔راؤ محمد اجمل خان نے کہا کہ میں نو مئی کے واقعہ کی مذمت کرتا ہوں اور ان واقعات میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے،کسان کو 28 سے 30 فیصد سود پر قرضہ دیاجاتا ہےقرضے پر سود کو سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے، ایک ٹیوب ویل پر 10 سے 35 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں،کسان کو بغیر سود پر قرضے دیئے جائیں،بیج کی فراہمی پر ٹیکس کے خاتمے کا فائدہ کسانوں کی بجائے کمپنیوں کو فائدہ حاصل ہوگا،ملک میں معیاری بیج کی تیاری کیلیئے جوائنٹ ونچر پر کام کرناہوگا،چاول اور گندم کی کٹائی 10 اور 16 ہزار روپے فی ایکٹر ہے،دیہی علاقوں میں کسانوں کے متعلقہ انڈسٹری لگنی چاہیئےپانی کی فراہمی کیلیئے کوئی فنڈز نہیں رکھے گئےکسانوں کو کھاد پر سبسڈی دی جائے۔

متعلقہ خبریں