اہم خبریں

بپرجوائے کراچی سے دورجانا شروع،فاصلہ بڑھ کر245کلومیٹرہوگیا

کراچی (اے بی این نیوز    )بپرجوائے کراچی سے دورجانا شروع ہو گیا،فاصلہ بڑھ کر245کلومیٹرہوگیا،ٹھٹہ سے طوفان 210 کلومیٹردور ی پر ہےجبکہکیٹی بندرسے بھی فاصلہ بڑھ کر145کلومیٹرہوگیا، اب یہ شمال مشرق کی جانببڑھنا شروع ہو گیا،طوفان کے مرکز کے گرد ہواؤں کی رفتار تقریباً 150 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ لہروں کی اونچائی 30 فٹ ہے ،سجاول کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش جاری ہے ،،منوڑہ جانے والا زمینی راستہ بند، ہاکس بے میں سمندر کاپانی سڑکوں پرآگیا،بلوچستان کی ساحلی پٹی پر بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیااوردفعہ 144نافذ کرنے کے احکامات بھی دیئے گئے ہیں،سجاول میں بھی ہلکی بارش ہو رہی ہے،سجاول کے ڈپٹی کمشنر امتیاز ابڑو کے مطابق سجاول کے ساحلی علاقوں کے 105 دیہات 53 ہزار نفوس پر مشتمل ہیں، اس 53 ہزار کی آبادی میں سے 22 ہزار افراد خطرے کی زد میں تھے۔ ارلی وارننگ سسٹم کے تحت 6 ہزار لوگوں نے از خود نقل مکانی کی، ضلعی انتظامیہ نے 16 ہزار افراد کے انخلاء کو یقینی بنایا ہے۔ ریلیف کیمپس میں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے متعلقہ اداروں کو مقامی زبان میں سمندری طوفان سے متعلق آگاہی مہم کی ہدایت کی گئی ہے۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ عوام موسمیاتی حالات سے آگاہ رہیں اور ساحل پر جانے سے گریز کریں، ماہی گیر کھلے سمندر میں کشتی رانی سے بھی گریز کریں، ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل اور ان سے تعاون کریں۔کمشنر کراچی نے شہریوں کے ساحل سمندر پر جانے، ماہی گیری، کشتی رانی، تیراکی اور نہانے پر طوفان کے خاتمے تک کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر پابندی عائد کر رکھی ہے۔انتظامیہ، پاکستان نیوی اور آرمی کی جانب سے ساحلی علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، نیوی کے غوطہ خوروں نے سمندر میں پھنسے درجنوں ماہی گیروں کو بحفاظت ریسکیو کرلیا۔ سمندری طوفان کے خدشے کے پیش نظر بلوچستان کی ساحلی پٹی پر بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ کمشنر مکران اور قلات طوفان سے نمٹنے کے اقدامات کی نگرانی کریں، ماہی گیر سمندر کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں ان سے صورتحال پر مشاورت کی جائے۔وزیراعلیٰ کو ڈی جی پی ڈی ایم اے کی جانب سے متوقع صورتحال کے مطابق امدادی سرگرمیوں کی تیاری پر بریفنگ دی گئی، ڈی جی پی ڈی ایم اے اپنی ٹیم، مشنری اور امدادی سامان کے ساتھ گوادر میں موجود ہیں۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے اس کے مطابق لائحہ عمل مرتب کیا جائے، سمندری طوفان میں ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے موثر طور پر نمٹنے کی تیاری مکمل رکھی جائے۔

متعلقہ خبریں