اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) بجٹ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 1150 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی منظوری دے دی۔کابینہ نے انفرااسٹرکچر کے لیے 491.3 ارب روپے مختص کرنے، توانائی کے شعبے کے لیے 86.4 ارب روپے رکھنے کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ کی جانب سے ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے شعبے کے لیے 263.6 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔بجٹ اجلاس میں آبی ذخائر اور شعبۂ آب کے لیے 99.8 ارب روپے، فزیکل پلاننگ اور تعمیرات کے شعبے کے لیے 41.5 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔وفاقی کابینہ نے شعبۂ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 81.9 ارب روپے کی منظوری دے دی۔اجلاس میں خصوصی علاقہ جات، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 60.9 ارب روپے، خیبر پختون خوا میں ضم ہونے والے اضلاع کے لیے 57 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔ذرائع کے مطابق کابینہ کے بجٹ اجلاس میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ریلیف کی تجویز دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارتِ خزانہ کی تجویز پر بحث جاری ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔کابینہ کو وزارتِ خزانہ حکام بجٹ لے آؤٹ پر بریفنگ دیں گے۔کابینہ اجلاس میں 24 مئی اور 7 جون کے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق ہو گی۔بجٹ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔وزیر ِاعظم شہباز شریف کی کابینہ اجلاس کی صدارت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے موقع پر صحافی نے ان سے سوال کیا کہ بجٹ میں عوام کے لیے کوئی ریلیف لا رہے ہیں؟وزیر ِاعظم شہباز شریف نے جواب دیا کہ دعا کریں کہ ہم ایک اچھا بجٹ عوام کو دے سکیں۔وفاقی کابینہ کےبجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سرکاری ملازمین کا تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج بھی جاری رہا۔
وفاقی پولیس نے سڑک ایک طرف سے بلاک کر کے مظاہرین کو روک دیا۔اس موقع پر سرکاری ملازمین کے احتجاجی رہنما رحمٰن باجوہ کو رہا کر دیا گیا۔اجلاس سے قبل بجٹ دستاویزات پارلیمنٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے لیے کمیٹی روم میں پہنچا دی گئیں۔یہ بجٹ دستاویزات ایف بی آر کے عملے نے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی سیکیورٹی میںپارلیمنٹ ہاؤس پہنچائی ہیں۔دستاویزات کمیٹی روم نمبر 2 میں لے جانے سے پہلے سیکیورٹی عملے نے ان کی اسکریننگ بھی کی وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو من و عن تسلیم کر لیا ہے، امید کرتے ہیں آئی ایم ایف معاہدے کی منظوری دی جائے گی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اب ہم دوبارہ آئی ایم ایف کے ساتھ سرجوڑ کر بیٹھے ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کیا، عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔ آئی ایم ایف سربراہ سے ایک گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔شہباز شریف نے کہا کہ میرے پاس ایک ہی ایڈوائزر کی سیٹ خالی تھی شیخ روحیل اصغر کو ایڈوائزر بنایا ہے، کل وزیر خزانہ نے معیشت کی صورت حال پر پریس کانفرنس کی، سیلاب کے تباہ کن اثرات آئے، 30 ارب ڈالرز کا معاشی نقصان ہوا، صوبوں نے اپنے وسائل سے بھی اخراجات کیے، دوست ممالک نے ہمارا ہاتھ بڑھایا.انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں اشیاء کی قیمتیں بڑھیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ چین نے ہماری بھرپور مدد کی، ہماری مالی مدد کی، سعودی عرب نے 2 ارب اور یو اے ای نے ایک ارب ڈالر کی مدد کی، سعودی عرب اور یو اے ای نے ہمارا ہاتھ تھاما، ہم سعودی عرب اور یو اے ای کی مدد پر ان کے شکر گزار ہیں۔شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ ہماری معیشت میں بہتری آئی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی، زر مبادلہ کے ذخائر کے مسائل سامنے آئے، یہ کم ہوئے، سارے چیلنجز بیان کیے ان پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی ہے، لیکن ان کی معیشت بڑی ہے، ان تمام مسائل کے دوران عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھا ہے، دنیا میں معیشت کا پہیہ سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا ترقی نہیں ہوسکتی، سیاسی استحکام کے بغیر اربوں کھربوں جھونک دیں کوئی فائدہ نہیں















