اہم خبریں

پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ڈیموکریسی کے بعد جمہوریت کے لیے اکھٹے ہیں،گیلانی

اسلام آباد( اے بی این نیوز   )پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اتحادی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے سربراہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ تمام ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کریں تو آئینی تصادم نہیں ہوتا ، افواہوں پر کان نہ دھرے جائیں ،تمام اتحادی جماعتوں سے مذاکرات ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم کی اے این پی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد نوید قمر ،قمر زمان قائرہ اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اے این پی نظریاتی جماعت ہے ،اس جماعت کا ملکی سیاست میں کلیدی کردار ہے ،اے این پی کی آئین کی بالادستی کے لیے بڑی قربانیاں ہیں ، ہم نے اے این پی کو پیغام دیا ہے کہ پاکستانی عوام سیاسی جماعتوں کی جانب دیکھ رہی ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ سازگار سیاسی ماحول بنائیں ، لوگ مایوس اور بددل ہیں ،انہیں امید دلانے کی ضرورت ہے ، مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے ، سیاسی استحکام کی بدولت ہی ملک میں معاشی استحکام آئے گا ، معاشی ترقی کے لیے مذاکرات بہترین ذریعہ ہیں تاکہ سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہوسکے ، ہم نے ا س سے پہلے بھی مل کر مسائل کا حل نکالا ہے ۔اس موقع پراے این پی کے راہنما میاں افتخار حسین نے کہاکہ سیاست جمود کا شکار ہوتو وہ نہیں چل سکتی، ہمیں پاکستان میں پارلیمنٹ کی سپرمیسی بھی ثابت کرنی ہے ،تمام اداروں کا کردار بھی واضح کرنا ہے، ہر ذی شعور آدمی مذاکرات کی ہی بات کرے گا ، ہم نے پہلے بھی دہشت گردی کے دوران بھی مذاکرات کیے ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت کو اس احسن قدم پر خوش آمدید کہتے ہیں ، جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لئے مذاکرات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ،ہم نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا ہے اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں ،دہشت گردی کے خلاف کامیابی میں بھی مذاکرات نے اہم کردار ادا کیا ،مذاکرات ہی کامیابی کا واحد راستہ ہیں ، اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے بھی پیپلز پارٹی کے مشکور ہیں ، اس کی بدولت ہی صوبوںکو خودمختاری ملی ،پاکستان کا آئین متفقہ دستاویز ہے ،آئین بنانے میں ہمارے اکابرین نے مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے اہم کردار ادا کیا ، ملکی غیر یقینی کی فضا کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات اہم ہیں ،ہمیں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے ،پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے اور تمام اداروں کی بالادستی کے لیے مل بیٹھنا ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے اسفند یار ولی ،امیر حیدر ہوتی کی طرف سے پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہاں آکر ہمیں عزت بخشی ۔انہوں نے کہاکہ ہماری آل پارٹیز کانفرنس تین مئی کواسلام آباد میں ہوگی اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو بلاتفریق مدعو کیاجائے گا ، جس میں شرکت کے لیے ہمیں ان کو دعوت بھی دیتے ہیں ، اس ضمن میں پی ٹی آئی کو بھی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں ۔الیکشن کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نوید قمر نے کہاکہ ہم ملک کو آئینی بحران سے بچانا چاہتے ہیں ، ہرچیز کا دائرہ اختیار ہے اور پارلیمنٹ بھی اپنا اختیار رکھتی ہے ،سپلیمینٹری گرانٹ کو کابینہ نے مسترد نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ نے کیاہے ،یہ چیزیں آئینی تصادم کا باعث بن رہی ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان قائرہ نے کہاکہ دیگر اتحادی جماعتوں سے بھی مذاکرات کیے جائیں گے۔ اس لیے کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے ، 73کا آئین بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ تمام ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کریں ۔

متعلقہ خبریں