اسلام آباد ( اے بی این نیوز )خزانہ کمیٹی کا اجلاس، الیکشن فنڈز کی سمری آج ہی کابینہ اور قومی اسمبلی بھجوانے کا فیصلہ،،قائم مقام گور نر سٹیٹ بینک نے بتایا عدالتی حکم پر الیکشن کیلئے 21ارب مختص کردیئے لیکن یہ پیسے حکومت پاکستان کے ہیں ،وزیرمملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کہتی ہیں سٹیٹ بینک کو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اخراجات کا اختیار نہیں،،،وزیرقانون نے کہا 2بار الیکشن اخراجات ملک کے مفاد میں نہیں،عدالتی فیصلے کااحترام لیکن آئین سب سےمقدم ہے،، فنڈز فراہمی کا عمل غیر آئینی ثابت ہوا تو کیا سٹیٹ بینک کے ملازمین تنخواہیں دے کر 21 ارب پورا کریں گے؟وزیرتجارت نوید قمر نے کہا پہلی مرتبہ بجٹ اور قانون سازی کا حق چھینا جا رہا ہے، افسران توہین عدالت سے ڈرتے ہیں تو پارلیمان کو بھی اپنی توہین پر ایکشن کااختیار ہے،،موسیٰ گیلانی نے کہا میرے اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے کااختیار میرے والد کوبھی نہیں ہوسکتا،سٹیٹ بینک کون ہوتا ہے؟ پبلک منی کو قومی اسمبلی کی منظوری سے خرچ کیا جائے گا۔















