اسلام آباد (نیوزڈیسک )سپریم کورٹ کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے سے متعلق پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کو ختم کرنے کیلئے 8 رکنی بینچ تشکیل دئے جانے پرپاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر افنان اللہ نے کہاہے کہ ہم معاملے کو آئین وقانون کے مطابق لے کر چل رہے تھے، لیکن اب یہ معاملہ آئین و قانون سے بالکل بالاتر ہوچکا ہے، میں آپ کو ابھی بتا دیتا ہوں کہ یہ اس بل کو مسترد کردیں گے، پھر یہی ہے کہ آپ پارلیمنٹ کو بند کردیں اور یہ ججز آکر پارلیمنٹ میں بیٹھ جائیں۔نجی ٹی وی سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ 2018 میں عمران خان کو لانے کیلئے جو تماشے ثاقب نثار نے لگائے وہ سارے پاکستان نے دیکھا، انہوں نے کہا کہ چار پانچ ایم این اے، ایم پی اے تو میں ایسے ہی فارغ کردیتا ہوں۔ اور اس کے بعد ہمارے لوگوں کو فارغ کیا اس نے، کھڑے کھڑے دو دو ہیرنگز (سماعتوں) پر ہمارے سینیٹروں کو ڈسکوالیفائی (نااہل) کیا دوہری شہریت پر اور اسی قانون کے تحت فیصل واوڈا کو نااہل نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بل مسترد ہوا تو ہم پھر پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے، ہم اس بل کو پاس کروا کر ہی چھوڑیں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ اس بینچ میں مجھے سوائے ذاتی پسند کے کوئی اسٹرکچر نظر نہیں آرہا، سپریم جوڈیشل کونسل میں جن ججز کے کیسز گئے ہوئے ہیں کیا انہیں اس بینچ میں بیٹھنا چاہئیے؟ قاضی فائز عیسیٰ صاحب کو آپ نے اتنے سال نہیں بیٹھنے دیا۔















