اسلام آباد میں معاشی پالیسیوں کی سمت طے کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور Ahsan Iqbal کے قریبی اقتصادی ٹیم کی نگرانی میں کی گئی جبکہ اعلیٰ حکام اور اداروں کے نمائندے بھی شریک تھے۔
اجلاس میں وفاقی ادارہ برائے محصولات Federal Board of Revenue کی ٹیم نے آئندہ بجٹ کے لیے زیر غور مختلف تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں ٹیکس چوری، انڈر رپورٹنگ، نان رپورٹنگ، انڈر انوائسنگ اور اسمگلنگ جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ڈیجیٹل نگرانی کے نظام پر زور دیا گیا۔
اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جس سے نہ صرف ٹیکس چوری کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ ریونیو کلیکشن میں بھی بہتری آئے گی۔ حکام کے مطابق اس جدید نظام سے انسانی مداخلت کم ہو گی اور پورا عمل خودکار انداز میں چلایا جا سکے گا۔
مزید یہ کہ کسٹمز کے زیرِ قبضہ سامان کی نیلامی کے لیے ای-آکشن سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ حکام نے کہا کہ اس اقدام سے نیلامی کے عمل میں تاخیر اور بدعنوانی کے امکانات میں واضح کمی آئے گی۔
اجلاس میں یہ بھی تجویز سامنے آئی کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے عوام کو ٹیکس دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے اور تمام امور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے نمٹائے جا سکیں گے۔ حکومتی حکام نے اسے پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک “گیم چینجر” قرار دیا۔
اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے زور دیا کہ تمام اصلاحات کو اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے تاکہ یہ عملی، مؤثر اور معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکیں۔ اس موقع پر مختلف وزارتوں اور اداروں کے نمائندوں نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔















