اسلام آباد (اے بی این نیوز) ایک وفاقی معاون خصوصی/وزیر مملکت کی جانب سے اپنی وزارت میں مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے مالیت کے مساج کا بل جمع کروانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سرکاری حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ وزیر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اخراجات سرکاری دورے کے دوران تھائی لینڈ میں حاصل کی گئی مساج سروسز سے متعلق ہیں، جن کی ادائیگی سرکاری کھاتے سے کی جانی چاہیے۔ تاہم وزارت کے سیکرٹری نے بل پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور معاملے کے قواعد و ضوابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایک معاون خصوصی / وزیر مملکت نے مبینہ طور پر اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروایا ہے،وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھائی لینڈ سے مساج کروایا تھا،اب وزارت کے سیکرٹری بل پر دستخط نہیں کررہے۔۔
نوٹ۔ پاکستان میں غربت اور مہنگائی عروج پر ہے اور وزیر مساج کا بل بھی…— Mazhar Barlas (@mazhar_barlas) June 2, 2026
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری نے بل کی نوعیت، قانونی حیثیت اور سرکاری اخراجات کے قواعد کے مطابق ادائیگی کے جواز پر سوالات اٹھائے ہیں، جس کے باعث فائل تاحال زیر التوا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے نے عوامی حلقوں میں بھی ردعمل پیدا کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، سرکاری خزانے سے ذاتی نوعیت کے اخراجات کی ادائیگی کی کوشش عوامی احساسات کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے کے حوالے سے متعلقہ وزارت یا وزیر کی جانب سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم بل کی منظوری یا مسترد کیے جانے کا فیصلہ قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: کم ازکم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش















