کراچی سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے ابتدائی تفتیشی انکشافات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت عوام کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے ملک میں منشیات کے پھیلتے نیٹ ورک اور نوجوان نسل کو درپیش خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے تقریباً 13 سال قبل منشیات فروشی کا آغاز کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ کراچی کے پوش علاقوں، نجی پارٹیوں اور مخصوص حلقوں میں کوکین کی فروخت کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا۔ ملزمہ کے مطابق اس کے گاہکوں میں بڑی تعداد نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تھی، جن کی عمریں 16 سے 20 سال کے درمیان تھیں۔
پٹرول کی قیمت بھی کم،مقدار بھی وافر،جا نئے کس ملک سے لینے کی تجویز نے ہلچل مچا دی
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے شناخت چھپانے کیلئے اپنی انگلیوں کو تیزاب سے جلانے کا بھی انکشاف کیا تاکہ فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت ممکن نہ ہو سکے۔ مزید یہ کہ کراچی سے فرار ہونے کے بعد وہ لاہور میں مبینہ طور پر خفیہ لیبارٹری چلاتی رہی جہاں منشیات کو مزید طاقتور اور مہلک بنایا جاتا تھا۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کوکین کو زیادہ نشہ آور بنانے کیلئے کیٹامائن اور ایسیٹون جیسے کیمیکلز استعمال کیے جاتے تھے۔ حکام کے مطابق ملزمہ مخصوص برانڈ نام کے تحت مہنگے داموں کوکین فروخت کرتی رہی اور ایک گرام کی قیمت ہزاروں روپے وصول کی جاتی تھی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ نے دورانِ تفتیش بعض بااثر شخصیات اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد کے منشیات استعمال کرنے کا بھی ذکر کیا، تاہم حکام نے تاحال کسی نام کی تصدیق نہیں کی۔















