ماہر قانون فیصل ( faisal )چودھری نے پروگرام سوال سے آگےمیں گفتگو کرتے ہوئے موجودہ سیاسی و علاقائی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کے اعصاب کا امتحان لے رہے ہیں جبکہ محاصرہ اور دباؤ کی حکمت عملی اگرچہ جنگ کا حصہ رہی ہے، مگر موجودہ حالات حد سے زیادہ تشویشناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست اور سیاسی مخالفین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور ملک ایک سیاسی بند گلی میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے نکلنے کیلئے تمام فریقین کو سنجیدگی کے ساتھ جمہوری رویوں کو اپنانا ہوگا، کیونکہ اب تک استعمال ہونے والی سفارتکاری اور مذاکراتی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باعث روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ خاص طور پر تازہ دودھ اور دیگر خوراکی اشیاء کی ترسیل متاثر ہونے سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کاروباری سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان دیہاڑی دار طبقے کو ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اٹک ریفائنری کی ممکنہ بندش سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا، جو مزید مشکلات کو جنم دے سکتا ہے۔
سپیس ایکس کی اے آئی اسٹارٹ اپ کرسر کو خریدنے کیلئے60 ارب ڈالرز کی پیشکش
انہوں نے عدالتی نظام پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی جزوی معطلی کے باعث سائلین کو شدید مسائل درپیش ہیں اور متعدد کیسز التواء کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے انصاف کی فراہمی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔بین الاقوامی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات کے پیش نظر واشنگٹن طویل جنگی اخراجات کا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر بھی پالیسیوں میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔















