اسلام آباد( اے بی این نیوز ) مشیر وزیر اعظم رانا ثنا اللہ نے کہاہے کہ کسی جج کے بارے یا خلاف بات نہیں کرتا،تمام ججز قابل احترام ہیں۔ عدالتی نظام میں بہت سی تبدیلیاں ہونی چاہئیں۔
عدالتی نظام میں انتظامی مشینری اوربعض لوگوں نے نظام روکا ہوا ہے۔
9مئی کا جائزہ لیا جائے،ڈیڑھ سال میں فیصلہ کیوں نہیں ہوسکا۔ ان حالات میں صرف حکومت نہیں،پوری قوم غیر مطمئن ہے۔ ججز کی تعداد بڑھانے کا بل حکومت کی طرف سے پیش نہیں ہوا۔
حکومت کی منشا ہوئی تو بل آگے چلے گا ورنہ واپس ہوجائے گا۔
حکومت کو ججز کی تعداد کا بل پیش کرنا ہوتا تو خود پیش کرسکتی تھی۔ ہائیکورٹ ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62سال ہے۔ سپریم کورٹ کےججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال ہے۔ صر ف ججز کی نہیں سب کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھے گی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو توسیع دی بھی گئی تو وہ قبول نہیں کریں گے۔ 3سال کا وقت لینے کیلئے ہر جج ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ آنا چاہتا ہے۔ نمبر ون والے کو نہیں لایا جاتا،نمبر ٹو،تھری اور 4والے کو لایا جاتا ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔ ریٹائرمنٹ کی عمر ایک ہونے سے کسی جج کو اعتراض نہیں۔ فوج کا اپنا ایکٹ ہے ،وہ 45سال میں ریٹائر ہوجاتے ہیں۔
آرمی چیف صرف 3سال کیلئے تعینات ہے۔ آئین میں ترمیم کیلئے ہمارے پاس نمبر ز نہیں۔
ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق کوئی بات نہیں۔ پچھلی بار چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن 2سے 3مہینے پہلے ہوا تو تنقید کی گئی۔ نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اعلان وقت پر ہوگا۔
تحریک انصاف کا جلسہ انتظامی سطح پر ملتوی ہوا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ پی ٹی آئی کے ساتھ آن بورڈ تھی۔ جلسہ ملتوی کرنے کیلئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور سے پہلا رابطہ ہوا۔
جلسہ ملتوی کرنے کیساتھ ہی 8ستمبر کا این او سی انتظامیہ نے جاری کیا۔ جلسہ ملتوی کرنے کیلئے بانی پی ٹی آئی کے جیل کا دروازہ ہم نے نہیں کھلوایا۔
مزید پڑھیں :حکومت کیلئے اس وقت ترمیم کرنا آسان نہیں، بلوچستان میں بہت زیادہ مسائل ہیں،اعتزازاحسن















