لاہور (وقائع نگارخصوصی) سابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین نے کہا ہے کہ مارچ میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے،آج ملک میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد پر پہنچ گئی ہے،79 فیصد سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکستان غلط سمت جا رہا ہے،ملک میں پیسے آ نہیں رہے جا رہے ہیں،چھ ماہ میں اس حکومت نے 6 اعشاریہ 5 ٹریلین قرض لیا،4 سے 5 ارب ڈالر کی ایل سیز رکی ہوئی ہیں،مہنگائی کو جواز بنا کر ہماری حکومت کو ہٹایا گیا جبکہ ہمارے دور میں لوڈ شیڈنگ نہیں تھی، پی ٹی آئی کے آخری 2 سال میں ریکارڈ کارکردگی دکھائی، پی ٹی آئی دور میں سب سے زیادہ ٹیکس کلیکشن ہوئی اور ہم نے پاکستان کو گرے لسٹ نکالا۔پارٹی دفتر میں جمشید اقبال چیمہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں تھی، ہم 12 فیصد پر افراط زر ریٹ چھوڑ کرگئے تھے، اب امپورٹڈ میں 27 فیصد ہوچکی ہے،17ملین ڈالر لوگ ملک سے لیکر باہر جا چکے ہیں، حکمران تو قرضہ لیکر ادائیگی کررہے ہیں،سٹیٹ بینک کے ذخائر 4.3 بلین پر آ چکے ہیں، سعودی عرب نے بھی قرض دینے سے متعلق شرائط رکھ دی ہیں،آئی ایم ایف سے معاہدہ اس لیے نہیں ہو رہا آمدن بہت کم ہے، انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم والے اگلے چند ہفتوں میں بھاگ جائیں گے اور یہ جو کررہے ہیں عوام ان کو نہیں چھوڑیں گے،پی ٹی آئی کے پاس معیشت کو سنبھالنے کی حکمت عملی موجود ہے، پی ڈی ایم اور ان کے حواریوں نے معاشی صورتحال کے باعث عوام کیلئے بڑی مشکلات پیدا کردی گئیں ہیں، اگر حکومت جنرل الیکشن کی کال دے تو ملک کیلئے بہت اچھا کریں گے ہمیں معلوم ہے جب ہم حکومت میں آئیں گے تو ان مسائل سے نمٹنا پڑے گا، ہمارے پاس معیشت سنبھالنے کی حکمت عملی موجود ہے۔جمشید اقبال چیمہ نے کہاکہ ملک میں 75 ارب ڈالر کی زراعت ہے 45 ارب ڈالر لائیو سٹاک ہے ہم دس ارب ڈالر کی گندم ، چار ارب ڈالر کی مکئی پیدا کرتے ہیں،چار ارب ڈالر کی زراعت میں گروتھ ہوئی۔ اس بار زراعت اور فصلوں سے تیس فیصد آمدن کم ہوگی ،وفاقی حکومت میں پولٹری انڈسٹری کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ابھی تک یوریا اور ٹریکٹر کا استعمال کم ہے۔ 20 ارب ڈالر کا دودھ پیدا کرتے ہیں۔ جانوروں کی خوراک اسی فیصد مہنگی ہو چکی ہے۔ حکومت کسان کو غریب کرکے اس کی پیداوار کم کر رہی ہےپاکستان کے 23 کروڑ لوگ قحط کی جانب بڑھ رہے ہیں یہ سیاست نہیں ہم حقیقت میں قحط کی طرف بڑھ رہے ہیں جو حالات اب بن رھے ھیں۔ اچانک لوگوں نے حکومت پر دھاوا بول دینا ہے۔















