اہم خبریں

پاکستان میڈیکل کمیشن کا ایکٹ ختم ہونے کے بعد بھی جاتے جاتے نیا کارنامہ ،17 میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی فاٹا اور بلوچستان کے کوٹہ کے نام پر غیر قانونی سیٹیں بڑھا دیں

اسلام آباد ( ندیم چوہدری ) پاکستان میڈیکل کمیشن کا ایکٹ ختم ہونے کے بعد بھی جاتے جاتے نیا کارنامہ 17 میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی فاٹا اور بلوچستان کے کوٹہ کے نام پر غیر قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے سیٹیں بڑھا دیں ۔ممبر ایجوکیشن کی جانب سے وفاقی سیکرٹری قومی صحت کے نام لکھے گئے مراسلے میں 17 میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کی 324 سیٹوں ایچ ای سی سکالرشپ سیٹوں کا ایک سال کے لئے اضافہ کر دیا ۔ آئندہ آنے والی کونسل اگر یہ اضافہ منسوخ کرتی ہے تو ان کا مستقبل کیا ہو گیا کسی کو معلوم نہیں ۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کا ایکٹ ختم ہو کر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میںتبدیل ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میڈیکل کمیشن کونسل نے جاتے جاتے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی ہدایت پر پی ایم سی کے ایکٹ کے بر عکس بغیر کسی انسپیکشن کے ان کالجز کی سیٹوں میں اضافہ کر دیا ۔ جن کالجز کی سیٹوں میں فاٹا اور بلوچستان کے نام پر خلاف قانون اضافہ کیا گیا ان میں امیر الدین میڈیکل کالج کی سیٹیں 100 سے بڑھا کر 110 ،ڈی جی خان میڈیکل کالجز کی 100 سے بڑھا کر 120،گوجرانوالہ میڈیکل کالج کی 100 سے 120،خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج کی 100 سے 120،نواز شریف میڈیکل کالج 50سے 61،نشتر میڈیکل کالج 250سے300،پنجاب میڈیکل کالج 250سے 300،قائد اعظم میڈیکل کالج300سے325،ساہیوال میڈیکل کالج100سے120،سرگودھا میڈیکل کالج100سے120،سروس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز 200سے220،شیخ زید میڈیکل کالج150سے160،دی مونٹیسری کالج آف ڈینٹسٹری100سے110،ڈینٹل سیکشن پنجاب میڈیکل کالج50سے65،انسٹیٹیوٹ آف ڈینٹسٹری نشتر میڈیکل کالج50سے65،آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی200سے204،ڈینٹل سیکشن آرمی میڈیکل کالج50سے54کر دی گئیں ، پاکستا ن میڈیکل کمیشن کے ایکٹ میں کوٹہ سسٹم مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا ذرائع کے مطابق ڈپٹی چئیرمین سینٹ مرزا محمد آفریدی اور وفاقی وزیر سیفران کی ہدایت پر خلاف قانون ایک سا ل کے لئے ان تمام کالجز کی سیٹوں میں بغیر کسی انسپیکشن اور بغیر قانون میں ترمیم کئے اضافہ کیا گیا ۔ ان کی ہدایت پر صوبائی سیکرٹریز کی میٹنگ بلائی گئ جس میں ان سے یہ درخواست پی ایم سی کے نام لکھوائی گئی کہ فاٹا اور بلوچستان کا کوٹہ ہر صورت بحال کیا جائے ، اس کوٹہ کو بحال کرنے کی بجائے ان کالجز کو کوٹہ کی مد میں اضافی سیٹیں دے دی گئیں ۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر کوٹہ ہی دینا مقصود تھا تو پہلے سے موجود سیٹوں پر کوٹہ مختص کیا جاتا ہے ۔ جب کہ پی ایم سی کے قانون میں کسی قسم کی اجازت موجود نہیں ۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو بحال کئے جانے کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی آج متوقع ہے جس کے بعد کونسل ختم ہو کر وفاقی وزیر قومی صحت کے ماتحت ہو جائے گی ۔

متعلقہ خبریں