اسلام آباد( اے بی این نیوز )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ الحمدللہ آئی ایم ایف سے 9 ماہ کے لئے 3 ارب ڈالر کا سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ طے پاگیا ہے۔یہ انتظام زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط، معاشی استحکام اور ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے گا۔ اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ا ن کی ٹیم کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تعاون اور اشتراک پر آئی ایم ایف ایم ڈی اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے قرض پروگرام پورا کرانے میں بڑی مدد کی، پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے چین نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، سری لنکن صدر نے بھی ہماری مدد کی، یو اے ای نے ایک ارب ڈالر اور سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر دینے کا وعدہ پورا کیا۔ لاہورگورنر ہاؤس لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل سے پاکستان کی مشکلات کا خاتمہ ہوا، آئی ایم ایف سے کئی ماہ سے جاری بات چیت مثبت نتیجے پر پہنچی اور سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا، پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے بچ گیا ہے، پاکستان ڈیفالٹ ہوتا تو میں خود کو معاف نہیں کر پاتا، ایثار اور قربانی کا جذبہ قوموں کو مشکلات سے نکالتا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ پاکستان ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہے، مشکل وقت میں ساتھ دینے پر دوست ممالک کے شکر گزار ہیں، پاکستان درجنوں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے،عوام دعا کریں یہ آئی ایم ایف سے آخری معاہدہ ہو، خدا کرے آئندہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے، پیرس میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا بہت وقت گزر گیا 30 جون میں چند دن رہ گئے ہیں، میں نے کہا ہم نے آپ کی کونسی شرائط نہیں مانی، اتحادی حکومت نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا، پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے ہم نے کڑوے فیصلے کیے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال کی وجہ کو جاننا بہت ضروری ہے، 2018 تک پاکستان ترقی کر رہا تھا لیکن پھر بدترین دھاندلی کے ذریعے عمران نیازی کو مسلط کیا گیا، پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور پھر اس کی دھجیاں بکھیر دیں، پی ٹی آئی دور میں گندم اور چینی پہلے ایکسپورٹ کی گئی اور پھر امپورٹ کی گئی۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 3 ارب ڈالر کا یہ اسٹینڈ بائی معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا اور ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جولائی کے وسط میں ہوگا۔آئی ایم ایف سے معاہدہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم کرے گااور معاہدے سے سماجی شعبے کے لیے فنڈز کی فراہمی بہتر ہوگی، معاہدے سے پاکستان میں ٹیکسز کی آمدن بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اللہ کے فضل سے پاکستان کی مشکلات کاخاتمہ ہوا، آئی ایم ایف سے کئی ماہ سے جاری بات چیت مثبت نتیجے پر پہنچی۔ اسٹاف لیول معاہدہ سے پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے بچ گیا ہے، پاکستان ڈیفالٹ ہوتا تو میں خود کو معاف نہیں کرپاتا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان درجنوں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جاچکا ہے،عوام دعا کریں یہ آئی ایم ایف سے آخری معاہدہ ہو، خداکرے آئندہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔انہوں نے کہا کہ پیرس میں آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے ملاقات ہوئی، پاکستان کے معاشی استحکام کےلیے ہم نے کڑوے فیصلے کیے۔وزیراعظم نے کہا کہ جان بوجھ کر پاکستان کوعدم استحکام کاشکار کرنے کی کوشش کی گئی، پاکستان کے سری لنکا بننے کی باتیں بھی کی گئیں، غیرملکی اداروں کو پاکستان کی مدد سے روکا گیا۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ فتنہ بازوں نے قوم کو اداروں سے لڑانے کی کوشش کی،9 مئی کو بہت سے مکروہ چہرے سامنے آگئے، سانحہ9مئی میں دوست نما دشمن بھی شامل تھے۔ سانحہ9مئی کا مقصد پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش تھی۔ یہ کیسی حب الوطنی ہے مجھے صرف وزیراعظم ہی رہناہے۔ گزشتہ حکومت نےغریب عوام پرمعاشی بوجھ ڈالا، موجودہ حکومت نےملک کی معاشی حالت بہترکرنے کی کوشش کی، موجودہ حکومت نے آذربائیجان کے ساتھ ایل این جی کا معاہدہ کیا، گزشتہ حکومت نےعالمی اداروں سے تعلقات خراب کیے اور آئی ایم ایف معاہدےکی دھجیاں اڑائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا آئی ایم کے ساتھ معاہدے کے لیے جہاں وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے دن رات محنت کی وہیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی بھرپور طریقے سے سفارت کاری کی اور ہماری کوششوں کے علاوہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے سعودی عرب اور یو اے ای سے قرض دلانے کے لیے بہت کلیدی کردار ادا کیا، یہ سب کام کوئی اکیلا فرد نہیں کر سکتا، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ان کا کہنا تھا چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا، 5 ارب ڈالر چین کے کمرشل قرضے فراہم کیے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک نے بھی پاکستان کی بہت مدد کی، تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ کے چانسز کم تھے لیکن اگر خدانخواستہ ملک ڈیفالٹ ہو جاتا تو میں خود کو معاف نہیں کر پاتا، پیرس کانفرنس میں سری لنکا کے صدر نے ایم ڈی آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں مدد کی لیکن کچھ دوست نما دشمنوں نے کوشش کی کہ پاکستان سری لنکا بن جائے۔شہباز شریف کا کہنا تھا آئی ایم ایف سے قرضہ لینا کوئی لمحہ فخر نہیں بلکہ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے، قرض ہمیں مجبوری سے لینا پڑ رہا ہے، قرض لینے سے قومیں آگے نہیں بڑھ سکتیں، اللہ کرے کہ یہ آخری مرتبہ ہو کہ ہم قرض لینے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہوں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے جب قومیں فیصلہ کر لیں تو یہ ممکن ہے اور ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ ایک ہمسایہ ملک نے 1991 میں آئی ایم ایف کو خیر باد کہا اور ترکیہ نے 2007 میں آئی ایم ایف کو خیر باد کہا، پاکستان نے بھی آخری بار نواز شریف کے دور میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ پورا کیا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کی معیشت کی بحالی کا پلان ترتیب دیا ہے اور اس پلان کو میں معیشت کی بحالی کا ماسٹر پلان کہتا ہوں، ہم نے زراعت کی بحالی کے لیے جامع پلان بنایا ہے، ہم آئی ٹی سیکٹر سے اربوں روپے کی برآمدات کر سکتے ہیں۔















