اہم خبریں

سوڈان میں عید کے روز بھی فضائی حملے اور جھڑپیں جاری، لاکھوں افراد نقل مکانی کرگئے

دمشق (اے بی این نیوز)سوڈانی دارالحکومت خرطوم کے کچھ حصوں میں گزشتہ دن عید کےموقع پر بھی فضائی حملوں اور طیارہ شکن ہتھیاروں کی فائرنگ ہوتی رہی ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متحارب فوجی دھڑوں نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کےاعلانات باوجود پاسداری میں مکمل ناکام رہے ہیں۔سوڈان کی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان شدید جھڑپیں جاری، سوڈان میں ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دیدیا، ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں 28 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ۔تقریباً ساڑھے 6 لاکھ نقل مکانی کر کے پڑوسی ممالک کی طرف چلے گئے۔دوسری جانب جڑواں شہروں بحری اور اُم درمان میں 10 ہفتے سے زیادہ عرصے سے شدید جھڑپیں اور لوٹ مار جاری جبکہ اس تنازعہ کے باعث دارفور کے مغربی علاقے میں نسلی بنیادوں پر ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اُم درمان میں لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ اس تنازع کی نگرانی کرنے والے ایک سرگرم گروپ دارفور بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف نے گذشتہ پانچ دنوں میں جنوبی ریاست دارفورکے علاقے منواشی میں دو بار مہلک حملے کئے ہیں۔سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ ان جنگ بندیوں کو برقرار رکھیں جن کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔مشن نے ایک بیان میں کہا کہ آر ایس ایف اور اس کی اتحادی ملیشیا اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تشدد، عصمت ریزی اور لوٹ مار کے واقعات اور دارفور میں نسلی طور پرتشدد کی ذمے دار ہے جبکہ فوج رہائشی علاقوں میں حملوں اور فضائی بمباری کی جواب دہ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان متحارب فریقوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے اور جنگ کے دوران میں ہونے والے جرائم کا احتساب کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سوڈان میں اب تک جنگ بندی کے متعدد معاہدے ناکام رہے ہیں۔ان میں سعودی عرب اور امریکا کی ثالثی میں جدہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں سمجھوتے بھی شامل ہیں۔ یہ مذاکرات گذشتہ ہفتے معطل کردیئے تھے۔

متعلقہ خبریں