اہم خبریں

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرفتار ، کون کون سے الزامات کا سامنا ہے ؟ اہم رپورٹ سامنے آگئی

نیویارک(نیوزڈیسک) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرمانہ الزامات پر گرفتار کرلیا ۔ امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع جب کسی بھی سابق صدر پر فردِ جرم عائد کی گئی ۔امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پر 2016 کی انتخابی مہم کے فنڈز کا غلط استعمال اور بزنس ریکارڈز میں کرپشن کرنے کے 34 الزامات پر فرد جرم عائد کی گئی جن کو ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کرتے ہوئے خود کو بےقصور قرار دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ مین ہٹن کریمنل کورٹ میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جبکہ ٹرمپ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کے مخالفین اور سپورٹرز کے درمیان کشیدگی کا ماحول دیکھا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل ازیں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مجھے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا یہ سب بہت غیریقینی ہے، یقین نہیں آتا کہ امریکا میں یہ سب ہورہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پیشی کے لیے نیویارک کے علاقے مین ہیٹن کی عدالت پہنچے جہاں انہوں نے خود کو ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس حکام کے حوالے کیا۔ ٹرمپ کو منگل کو مزید قانونی کارروائی کیلئے نیویارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ سابق صدر کے مشیروں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ اس دوران پہلے سے طے شدہ بیانات کے علاوہ کوئی بھی بیان دینا آپ کے خلاف جاسکتا ہے۔
ٹرمپ کو کون کون سے الزامات کا سامنا ہے ؟
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مین ہٹن کی عدالت میں تاریخی سماعت کے بعد روانہ ہوگئے انہیں جج نے ٹرائل سے پہلے کی پابندیوں کے بغیر حراست سے رہا کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ پر اداکارہ کو ادائیگی سے متعلق 3 کیسز میں فردجرم عائد کی گئی، انہیں 2020 کے صدارتی الیکشن کے نتائج الٹنے کی کوشش کے الزام کا بھی سامنا ہے۔ٹرمپ کے خلاف مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مدعاعلیہ نے کاروباری ریکارڈ میں ہیراپھیری کی تاکہ ووٹرز سے مجرمانہ عمل چھپائے۔مدعاعلیہ نے17-2015 کے دوران سازش کی تاکہ 2016 کےصدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو، ٹرمپ نے اپنے خلاف منفی مواد خریدا تاکہ چھاپا نہ جاسکے، انتخابی عمل میں مدد ملے۔ٹرمپ نےانتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی، ادائیگیوں کو غلط انداز میں دکھایا، ٹرمپ نے وکیل کے ذریعےفحش فلموں کی اداکارہ کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر دلوائے۔مقدمے میں کہا گیا کہ سابق صدر کا اداکارہ کو رقم دینے کا مقصد اپنے جنسی تعلق کو چھپانا تھا، ان کے وکیل کی جانب سے اداکارہ کو دی گئی رقم غیر قانونی ہے اور ان کا وکیل اس غیرقانونی ادائیگی کا جرم تسلیم کرچکا ہے۔ٹرمپ کے خلاف مقدمے میں کہا گیا کہ ٹرمپ ٹاور کا دربان ٹرمپ کے مبینہ بغیر شادی پیدا بچے سے متعلق خبر دینا چاہتا تھا، تاہم ٹرمپ کے حامی میڈیا گروپ نے دربان کی اسٹوری کے حقوق 30 ہزار ڈالر میں خریدے۔مقدمہ میں کہا گیا کہ بچے سے متعلق خبر غلط ثابت ہونے پر میڈیا گروپ نے دربان سے ڈیل ختم کرنا چاہی، ٹرمپ کے وکیل نے میڈیا کمپنی پر زور دیا کہ دربان سے ڈیل صدارتی الیکشن تک جاری رکھے۔جون 2016 میں خاتون نے ٹرمپ سے جنسی تعلق کا دعوی کیا، میڈیا کمپنی نے خاتون کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر دے کر جنسی تعلق پر خاموشی کا سمجھوتہ کیا، جبکہ جنسی تعلق کی دعویدار دوسری خاتون کو 360 ہزار ڈالر دے کر خاموش کرایا گیا۔امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ مین ہٹن کی عدالت میں تاریخی سماعت کے بعد روانہ ہوگئے انہیں جج نے ٹرائل سے پہلے کی پابندیوں کے بغیر حراست سے رہا کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ پر اداکارہ کو ادائیگی سے متعلق 3 کیسز میں فردجرم عائد کی گئی، انہیں 2020 کے صدارتی الیکشن کے نتائج الٹنے کی کوشش کے الزام کا بھی سامنا ہے۔ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد خفیہ دستاویز کی مس ہینڈلنگ کےالزام کا بھی سامنا ہے۔امریکی ججز کا کہنا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےخلاف کیس کی سماعت جنوری 2024 میں شروع ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں