اہم خبریں

امریکہ اسرائیلی وزیرخزانہ کے بیان پرسخت برہم، بائیکاٹ کا اعلان

تل ابیب(نیوزڈیسک) واشنگٹن کا اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے فلسطینی گاؤں ’’حوارہ ‘‘ کو مٹانے سے متعلق انتہا پسندانہ بیانات پر سخت ناراض، مذکورہ وزیرکے بائیکاٹ کا اعلان۔ یہ قدم واشنگٹن کی جانب سے انتہائی دائیں بازو کے وزیر کے بیانات پر تنقید کے بعد سامنے آیا ۔ سموٹریچ نے اپنے بیان میں حوارہ کو مٹا ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ترجمان امریکی وزارت خارجہ نیڈ پرائس نے سموٹریچ کے ریمارکس گھناؤنے، غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر کے ریمارکس کی عوامی سطح پر مذمت کریں۔ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد میں ایک انتہائی قوم پرست سموٹریچ نے یہ ریمارکس بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کے درمیان منعقد ایک کانفرنس میں کہے تھے۔اس ہفتے کے شروع میں فلسطینی گاؤں حوارہ پر آباد کاروں کے حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر سموٹریچ نے کہا تھا میرے خیال میں حوارہ کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے، میرے خیال میں اسرائیل کو ایسا کرنا چاہیے۔ ایک رز قبل منگل کو ایک اسرائیلی جنرل نے حوارہ پر آباد کاروں کے حملے کو قتل عام قرار دیا تھا۔ اسرائیلی پولیس نے حوارہ گاؤں میں ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں 10 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ آباد کاروں کے اس حملے میں ایک فلسطینی شہید ہوگیا تھا۔

متعلقہ خبریں