برسلز(نیوزڈیسک)یورپ کے 11 ممالک نے جوہری توانائی پر تعاون کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بلغاریہ، کروئیشیا، جموریہ چیک، فن لینڈ، فرانس، ہنگری، نیدرلینڈز، پولینڈ، رومانیہ، سلوواکیہ اور سلووینیہ نے موجودہ نیوکلیئر پلانٹس کے ساتھ ساتھ نئے پراجیکٹس میں تعاون کےلیے بھی اتفاق کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی یورپ کو کاربن کا اخراج کرنے والے ایندھن سے نجات دلائے گی۔مشترکہ بیان میں یورپی ممالک نے کہا کہ جوہری توانائی ماحولیاتی اہداف کے حصول کےلیے کئی ذرائع میں سے ایک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی پیدا کرنے، صارفین کی ضروریات پوری کرنے اور فراہمی یقینی بنانے کےلیے جوہری توانائی کارگر ثابت ہوگی۔فرانس بہت طویل عرصے سے ایٹمی طاقت پر انحصار کرتا رہا ہے، اس نے جوہری توانائی رکھنے والے یورپی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔فرانس کا کہنا تھا کہ وہ ایک جوہری اتحاد‘ تشکیل دینا چاہتے ہے، جوہری توانائی ناصرف ملک بلکہ یورپ کو ٹرانسپورٹ اور انڈسٹری کےلیے گرین ہائیڈروجن تیار کرنے میں مدد دے گی۔لیکن اس معاملے پر یورپ منقسم ہے، کئی یورپی ریاستیں اس کی مخالف ہیں جن میں جرمنی اور اسپین شامل ہیں۔لکسمبرگ کے وزیر توانائی کلاڈ ٹرمز کا کہنا تھا کہ نئے جوہری مراکز قائم کرنے میں 15 سال لگیں گے، یہ عملی کے بجائے فکری فیصلہ ہے















