انقرہ(نیوزڈیسک)ترکیہ میں اس ماہ آنے والے دوسرے بڑے زلزلے کے جھٹکے میں کئی عمارتوں سمیت ایک فیکٹری منہدم ہوگئی جس میں دب کر ایک مزدور جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے صوبے مالاطیہ میں 5.6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرتے عمارتوں سے باہر نکل آئے۔5.6 شدت کے زلزلے کا مرکز صوبے مالاطیہ کے علاقے یشیلیورت میں زمین کی 6.96 کلومیٹر (4.32 میل) گہرائی میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے مالاطیہ سے جڑے دیگر 4 ہمسایہ صوبوں میں بھی محسوس کیے گئے۔
#Malatya'da 5.6 şiddetindeki #deprem sonrası bir binanın yıkıldığı anlar. #Malatya pic.twitter.com/Kd8BRUdums
— محب الأمطار (@0AfLcgZf7N6BrQj) February 27, 2023
ریسکیو ٹیم کے انچارج کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے ملبے سے ایک لاش نکالی گئی ہے جب کہ مجموعی طور پر 32 کو زندہ نکالا گیا ہے اور 110 افراد زخمی ہیں جنھیں مختلف اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔زلزلے کے جھٹکے اتنے طاقتور تھے کہ کئی عمارتیں ہلنے لگیں۔ ایک اندازے کے مطابق 10 سے زائد عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئیں جب کی ایک فیکٹری بھی زمین بوس ہوگئی۔رواں ماہ کے آغاز میں ترکیہ اور شام میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد سے اب تک صرف ترکیہ میں دس ہزار کے قریب آفٹر شاکس آئے جس میں آج آنے والا 5.8 شدت کا زلزلہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔
#Update Father and daughter, who were under rubble in latest 5.6 magnitude earthquake in #Malatya , rescued after 2 hours of work pic.twitter.com/uKQ4BZYSd8
— Prokaliptika ™_ (@prokaliptika1) February 27, 2023
یاد رہے کہ ترکیہ میں رواں ماہ کی 6 تاریخ کو آنے والے زلزلے میں 50 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ 7.6 شدت کے زلزلے میں زخمیوں کی تعداد لاکھ سے زیاد ہے اور 8 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔















