تہران (نیوزڈیسک)ایرانی ہیلتھ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایران کے سب سے بڑے شہر ’’قم‘‘ میں حالیہ مہینوں میں لڑکیوں کے سکول بند کروانے کی کوشش میں سینکڑوں طالبات کو زہر دیا گیا۔ نومبر کے آخرمیں ’’قم‘‘ کے سکولوں میں دس سالہ بچیوں کو سانس میں زہر دینے کے واقعات رپورٹ کئے۔ کئی واقعات میں نو عمر لڑکیوں کو ہسپتال میں بھی داخل کرانا پڑا ۔اتھارٹی کے مطابق یہ پتہ چلا کہ کچھ لوگ تمام سکولوں، خاص طور پر لڑکیوں کے سکولوں کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس دوران کسی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ یہ زہر کیمیائی مرکبات کا نتیجہ تھا ۔ یہ وہ کیمیائی مرکبات تھے جو فوجی استعمال میں نہیں آتے۔خیال رہے ایران میں 16 ستمبر 2022 سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ احتجاجی تحریک کو ساڑھے پانچ ماہ ہوگئے ہیں۔ قم شہر تہران سے 150 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ شہر ایران میں شیعہ مذہبی علوم کا مرکز ہے۔















