تہران(نیوزڈیسک) عالمی تنہائی اورسپاہِ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) یا اس کے کچھ ارکان کیخلاف یورپی یونین کی ممکنہ پابندیوں کے بعد امریکی ڈالرکے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدرمیں ریکارڈ کمی واقع ہوئی۔غیرملکی زرمبادلہ کی ویب سائٹ Bonbast.com کے مطابق ہفتے کے روزایران کی غیرسرکاری مارکیٹ میں ڈالر 4 لاکھ 47 ہزارریال میں فروخت ہو رہا تھا جبکہ جمعہ کویہ 4 لاکھ 30 ہزار 500 ریال تھا۔ایران کے مرکزی بینک کے گورنرمحمد رضا فرزن نے ریال کے زوال کا ذمہ دار’’نفسیاتی کارروائیوں‘‘ کوقراردیا ہے جس کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ اس کے دشمن ملک کو غیرمستحکم کرنے کے لیے منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے فرزن کے حوالے سے کہا کہ آج مرکزی بینک کوغیرملکی کرنسی،سونے کے وسائل اور ذخائر کے حوالے سے کسی پابندی کا سامنا نہیں مگرمیڈیا کی دھوکا دہی اور نفسیاتی کارروائیاں آزادانہ شرح تبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے اہم عوامل ہیں۔















