اہم خبریں

لبنانی پارلیمنٹرین کا انوکھا احتجاج، رات ایوان میں سوکر گزار دی

بیروت(نیوزڈیسک)لبنان کے دو ارکان پارلیمنٹ نے احتجاجاً رات ایوان میں سوتے ہوئے گذاری۔ ان کا یہ احتجاج ملک میں نئے صدر کے انتخاب کے حوالے سے جاری تعطل کے خلاف تھا۔ لبنانی پارلیمنٹ نیا لبنانی صدر منتخب کرنے میں مسلسل ناکام ہے اور دو دن پہلے 11 ویں بار اس سلسلے میں ناکام ہوئی ہے۔بد ترین معاشی بد حالی سے دوچار ملک میں سیاسی افراتفری کا یہ سلسلہ بھی پرانا ہے۔ اس صورتحال کے خلاف دو ارکان پارلیمنٹ نے انوکھا احتجاج کیا اور پارلیمنٹ میں سونے کا اعلان کر دیا۔ایک احتجاجی رکن نجات صلیبا نے اس بارے میں اپنے وڈیو بیان میں کہا ‘ہم یہاں سوئے۔ ہم امید کرتے ہیں آج ہمارے لبنان کے لیے ایک اچھی صبح طلوع ہو گی۔ان کے ساتھ احتجاج میں شریک دوسرے رکن پارلیمنٹ ملحم خلف نے کہا ‘ہم لبنان کو بچا سکتے ہیں ۔’ لبنان جہاں پچھلے اکتوبر سے صدر کا عہدہ خالی ہے اور حکومت نگران کے طور پر کام کر رہی ہے۔خلف نے اپنے بیان میں کہا ان کا رات کو پارلیمنٹ میں ٹھہرنا اس لیے بھی تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے سیشن کو جاری رکھنا چاہتے تھے تاکہ نئے سربراہ ریاست کا فوری انتخاب عمل میں لایا جائے۔خلف بیروت کی وکلا بار کے سابق سربراہ ہیں اور اب پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ ان کا رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا ‘ہم اپنے موقف سے نہیں ہٹیں گے۔’ خلف اور ان کی احتجاج شریک ساتھی نجات صلیبا 2022 میں پارلیمنٹ کے رکن بنے تھے۔اس سے پہلے ملک میں گروہی اور فرقہ ورانہ اشرافیہ کے خلاف احتجاج جاری تھا۔ واضح رہے لبنانی سیاست 1975 سے 190 تک خانہ جنگی کا شکار رہی ہے۔ اب ملک بد ترین معاشی بدحالی میں گرفتار ہے۔رات کو پارلیمنٹ میں رہنے والے دو ارکان پارلیمنٹ سے ملنے کے لیے متعدد دوسرے آزاد ارکان پارلیمنٹ بھی آتے رہے۔ارکان پارلیمنٹ کافی دیر تک اپنے موبائل فونوں کی روشنی میں بیٹھے رہے کہ بد ترین معاشی بد حالی کے شکار لبنان میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 23 گھنٹوں تک پھیل چکا ہے۔

متعلقہ خبریں