لاہور(نیوزڈیسک)لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال ریفرنس میں سابق وزیراعظم شہبازشریف سمیت تمام ملزمان کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔احتساب عدالت کے جج ملک علی ذوالقرنین نے آشیانہ اقبال کیس کا فیصلہ 18 نومبر کو سُنایا تھا۔آشیانہ اقبال ریفرنس کاتحریری فیصلہ 59صفحات پرمشتمل ، ریفرنس میں عائد الزامات انتہائی مشکوک قرار۔ ملزمان کیخلاف الزامات ثابت ہونےکا کوئی امکان موجود نہیں۔سپلیمنٹری انوسٹی گیشن رپورٹ اور گواہوں کے بیانات کا خاصہ یہ ہے۔ شہباز شریف سمیت دیگر کی بریت کی درخواستوں کو منظور کیا جاتا ہے، عدالت شہباز شریف سمیت دیگر کو ان الزامات سے بری کرتی ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ احد خان چیمہ نے چیئرمین نیب کو جولائی 2022 میں ری انوسٹی گیشن کی درخواست دی ، سپلیمینٹری رپورٹ کے مطابق اس پروجیکٹ میں حکومتی خزانے کو نقصان نہیں پہنچا اور کسی بھی ملزم کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے۔احتساب عدالت کے مطابق اس ریفرنس میں عدالت پراسکیوشن کا ڈینٹ نظر اندازنہیں کرسکتی، فیصلے کی کاپی ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نیب لاہورکو ارسال کی جائے گی۔آشیانہ اقبال ریفرنس سنہ 2018 میں دائر کیا گیا تھا۔ شہباز شریف سمیت عدالت نے جن تمام ملزمان کو بری کیا ان میں موجودہ نگران وفاقی وزیر فواد حسن فواد ، نگراں وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ، بسم الله کنسٹرکشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو شاہد شفیق، بلال قدوائی، امتیازحیدر، اسرارسعید اور عارف بٹ شامل ہیں۔عدالت نے اس ریفرنس میں 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔















