ٹورنٹو(نیوزڈیسک) کینیڈین شہر ایڈمنٹن میں خالصتان تحریک کے ایک اور رکن 11 سالہ بیٹے سمیت دن دیہاڑے شاپنگ پلازے میں قتل۔ عالمی رپورٹس کے مطابق41 سالہ ہرپریت سنگھ اپال اور ان کے بیٹے کو ان کی گاڑی میں دن دیہاڑے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ایڈمنٹن پولیس کا کہنا تھاکہ باپ بیٹا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے،گاڑی میں سوار ایک اور لڑکا محفوظ رہا، کینیڈا میں سکھ برادری کے ارکان کا کہنا تھا کہ ہرپریت اور اس کے بیٹے کے قتل میں بھارتی حکومت کے ایجنٹ ملوث ہو ہیں۔واضح رہے کہ خالصتان تحریک کے روح رواں نجر کو رواں برس 18 جون کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک گوردوارے کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ٹروڈو کے اعلان کے بعد سے کینیڈا اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں،دوسری طرفامریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کی تحقیقات میں تعاون کرے، جس کی وجہ سے نئی دہلی اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔انٹونی بلنکن نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہت اہم ہے کہ بھارت اپنی تحقیقات پر کینیڈا کے ساتھ کام کرے اور وہ اس فرق کو باہمی تعاون کے ساتھ حل کرنے کا راستہ تلاش کرے، انہوں نے کہا کہ بھارت تعاون کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر میں نے بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔















